پاکستان میں آٹو موبائل انڈسٹری ملک کے صنعتی اور معاشی منظرنامے کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر لسٹڈ سب سے متحرک شعبوں میں سے ایک کے طور پر، گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیاں نہ صرف صارفین کی طلب اور صنعتی رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ وسیع تر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا پیمانہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 25-2024 میں پاکستان میں کاروں کی فروخت میں 43 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ تجزیہ کاروں نے مستحکم معاشی حالات، نئی اقسام کا تعارف، کم شرح سود، اور بہتر صارف اعتماد کو قرار دیا ہے۔
مالی سال 2025 میں کاروں (جس میں جیپس اور پک اپس بھی شامل ہیں) کی فروخت 1,48,023 یونٹس رہی، جو کہ مالی سال 2024 میں رپورٹ کیے گئے 1,03,829 یونٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
یہ رپورٹ اسٹاک ایکسچینج پر اس وقت درج پانچ بڑی آٹو موبائل اسمبلرز کا قریب سے جائزہ پیش کرتی ہے، جنہیں 28 جولائی 2025 تک کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کی بنیاد پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔
انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی این ڈی یو) (587 ملین ڈالر)
انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: آئی این ڈی یو) کو 1989 میں پاکستان میں قائم کیا گیا تھا، جو کہ حب گروپ کے کچھ اداروں، ٹویوٹا موٹر کارپوریشن اور جاپان کی ٹویوٹا تسوشو کارپوریشن کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ (جوائنٹ وینچر) ہے۔ یہ کمپنی پاکستان میں ٹویوٹا اور ڈائیہاتسو برانڈ کی گاڑیوں کی اسمبلنگ، تدریجی مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ میں مصروف عمل ہے۔ انڈس موٹر ان برانڈز کی واحد تقسیم کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی ہے۔
گزشتہ سال، انڈس موٹر نے اعلان کیا تھا کہ وہ پروڈکشن کے مقامی اجزا میں اضافے کے لیے 1.1 ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری کرے گی۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری اس کے اس مجموعی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کے پرزہ جات اور اجزا کی مقامی سطح پر تیاری (لوکلائزیشن) کو فروغ دینا ہے، تاکہ زرمبادلہ کا اخراج کم ہو، مقامی آٹو انڈسٹری کو ترقی ملے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کو فائدہ پہنچے۔
مالی سال 25-2024 کے پہلے نو مہینوں میں، انڈس موٹر نے 16.55 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر انڈس موٹر کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 587 ملین ڈالر ہے۔
اٹلس ہونڈا لمیٹڈ (اے ٹی ایل ایچ) — 540 ملین ڈالر
اٹلس ہونڈا لمیٹڈ (پی ایس ایکس:اے ٹی ایل ایچ) کو 16 اکتوبر 1962 کو کمپنیز ایکٹ 1913 (جو اب کمپنیز ایکٹ 2017 ہے) کے تحت ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کیا گیا۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر موٹرسائیکلوں اور اسپیئر پارٹس کی مرحلہ وار تیاری اور مارکیٹنگ میں مصروف عمل ہے۔
جون 2025 میں، اٹلس ہونڈا نے پاکستانی صارفین کے لیے ایک الیکٹرک اسکوٹر لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان حکومت نے باضابطہ طور پر نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی 30-2025 کا آغاز کیا، جس کا ہدف 2030 تک آٹو سیلز میں الیکٹرک وہیکل کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانا ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق، اٹلس ہونڈا نے یکم جولائی 2025 سے اپنی موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں 2,000 روپے سے 6,000 روپے فی یونٹ تک اضافہ کیا، جو کہ وفاقی بجٹ برائے مالی سال 26-2025 میں نئے ٹیکس کے نفاذ کے باعث کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اٹلس ہونڈا کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 540 ملین ڈالر ہے۔
ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ (ایم ٹی ایل) — 399 ملین ڈالر
ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ (پی ایس ایکس:ایم ٹی ایل) ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو 1964 میں پاکستان میں شامل کی گئی۔ ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ بین الاقوامی معیار کے ٹریکٹرز، ڈیزل جنریٹر سیٹس، پرائم موورز، ڈیزل انجنز، اور فورک لفٹ ٹرکوں کی تیاری اور فروخت میں مصروف ہے۔ کمپنی صنعتی اور مالیاتی نظام (آئی ایف ایس) ایپلیکیشنز کی مقامی و بین الاقوامی سطح پر فروخت، نفاذ اور معاونت میں بھی سرگرم ہے۔ 30 جون 2024 تک، کمپنی کی سالانہ پیداواری صلاحیت ڈبل شفٹ کی بنیاد پر 30,000 ٹریکٹرز فی سال ہے۔
نومبر 2024 میں، پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) نے ملت ایکوپمنٹ لمیٹڈ اور ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ کے انضمام کی منظوری دے دی، جو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے منظور کردہ ایک اسکیم آف ارینجمنٹ کے تحت عمل میں آیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملت ٹریکٹرز کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 399 ملین ڈالر ہے۔
سازگارانجینئرنگ ورکس لمیٹڈ (پی ایس ایکس:ایس اے زیڈ ای ڈبلیو) (279 ملین ڈالر)
سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس اے زیڈ ای ڈبلیو) پاکستان میں 1991 میں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کی گئی، اور 1994 میں اسے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی گاڑیوں، آٹو موٹیو پرزہ جات و لوازمات، اور گھریلو برقی آلات کی تیاری اور فروخت ہے۔
30 جون 2024 تک، سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ کے کل 60.446 ملین شیئرز زیرِ گردش ہیں جو 5,009 شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز، سی ای او، ان کی بیویوں اور نابالغ بچوں کے پاس کمپنی کے تقریباً 66.68 فیصد شیئرز ہیں، جبکہ مقامی عام عوام کے پاس 16.87 فیصد شیئرز ہیں۔
سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے اگست 2022 میں پاکستان میں چین کی گریٹ وال موٹر کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے تحت اپنی پہلی فور وہیلر گاڑی متعارف کروائی۔
گزشتہ سال نومبر میں، سازگار نے اعلان کیا کہ وہ مستقبل کی کاروباری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 1.54 ارب روپے مالیت کی زمین خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جون 2025 میں کمپنی نے اپنی فور وہیلر گاڑیوں کی 1,349 یونٹس فروخت کیں، جو ایک مقامی تحقیقاتی ادارے کے مطابق کمپنی کی اب تک کی دوسری سب سے زیادہ ماہانہ فروخت تھی۔
ہائیبرڈ ٹیکنالوجی کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہوئے، سازگار نے اپنی پہلی مقامی طور پر اسمبل کی گئی پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑی (پی ایچ ای وی)— ہیول ایچ 6 ہائی4 1.5 ایل اے ٹی اے ڈبلیو ڈی ٹربو — کی پری بکنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جبکہ اس کے سے کے ڈی ماڈل کی ابتدائی فراہمی اگست 2025 میں متوقع ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سازگار کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 279 ملین ڈالر ہے۔
ہونڈا ایٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایچ سی اے آر) (150 ملین ڈالر)
ہونڈا ایٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایچ سی اے آر) کو 1992 میں پاکستان میں بطور پبلک لمیٹڈ کمپنی شامل کیا گیا، اور اس نے 1994 میں اپنے کمرشل آپریشنز کا آغاز کیا۔ ہونڈا ایٹلس کارز جاپان کی ہونڈا موٹر کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان کے ایٹلس گروپ آف کمپنیز کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر قائم کی گئی۔ یہ کمپنی ہونڈا گاڑیوں اور ان کے اسپیئر پارٹس کی اسمبلنگ، ترقی یافتہ تیاری، اور فروخت میں مصروفِ عمل ہے۔
رواں سال اپریل میں، کمپنی نے انکشاف کیا کہ وہ پاکستان میں ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (ایچ ای وی) ماڈلز متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونڈا ایٹلس کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 150 ملین ڈالر ہے۔
ہر کمپنی کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن پیر، 28 جولائی 2025 کو شمار کی گئی تھی۔
اس حساب کتاب کے لیے روپے کا تبادلہ ریٹ 1 امریکی ڈالر کے مقابلے میں 284 روپے استعمال کیا گیا۔
مندرجہ بالا رپورٹ بزنس ریکارڈر (ڈیجیٹل) کے نیوز ایڈیٹر ریحان ایوب نے مرتب کی، جبکہ گرافکس میں حسین افضل اور ڈیٹا میں جنید سناور نے معاونت فراہم کی۔