اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے بدھ کے روز پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، جس سے ذخائر 17.5 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب پاکستان کو اسی مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 25.9 ارب ڈالر کی غیر ملکی قرض ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں رول اوورز بھی شامل ہیں۔
جمیل احمد نے مزید کہا کہ اگر پاکستان عالمی کیپٹل مارکیٹ میں یوروبانڈ کے ذریعے نیا قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو ذخائر کی سطح ہدف سے بھی بلند ہو سکتی ہے۔ وہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر زرمبادلہ ذخائر 14.5 ارب ڈالر کی سطح پر موجود تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسی مالی سال کے لیے پاکستان کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
گورنر نے مزید کہا ہے کہ زرعی پیداوار کی بحالی اور صنعتی و خدماتی شعبوں میں بہتری کا تسلسل ملک کی معاشی نمو کو سہارا دے گا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0 تا 1 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے، اس مالی سال 2025 میں ریکارڈ ہونے والے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا دور ختم ہو جائے گا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مشاہدہ کیا ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح عمومی طور پر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم بعض مہینوں میں یہ بالائی حد سے تجاوز بھی کر سکتی ہے۔
ایم پی سی نے زور دیا ہے کہ مہنگائی کی صورت حال کئی بیرونی و اندرونی خطرات سے متاثر ہو سکتی ہے، جن میں عالمی سطح پر کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی سرگرمیوں کی غیر یقینی صورت حال، توانائی کی قیمتوں میں متوقع حکومتی ایڈجسٹمنٹ اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر سیلاب شامل ہیں۔