پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بورڈ میں شامل ایک شیئر ہولڈر ڈائریکٹر نے کارپوریشن کے ہیومن ریسورس (ایچ آر) کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی ہے، جو کہ حکومتی قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں، خصوصاً اُن افسران کی ملازمت جاری رکھنے کے حوالے سے جو ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر 60 سال مکمل کر چکے ہیں۔

یہ تنقید 30 جون 2025 کو منعقدہ پی این ایس سی کے 460 ویں بورڈ اجلاس میں جمع کرائے گئے ایک باقاعدہ اختلافی نوٹ میں کی گئی، جس میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ وزارت بحری امور اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ایسے معاملات پر بارہا ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جن میں توسیعی تقرریوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اختلافی نوٹ میں ریکارڈ کی تیاری میں بے ضابطگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ شفافیت، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور قانونی فریم ورک کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔

یہ اندرونی اختلاف ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پی این ایس سی پہلے ہی اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور ملی بھگت کے سنگین الزامات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔

میڈیا میں گردش کرنے والی خبر کے مطابق کیپٹن سرفراز عنایت، جو کہ پی این ایس سی کے بورڈ میں بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر شامل ہیں، پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان افسران کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ادارے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دے کر برطرف کیا گیا تھا۔ ان معاملات پر انکوائریاں ہوئیں، عملے کی جانب سے شکایات درج کرائی گئیں، اور متعلقہ افراد کو برطرف کر دیا گیا، جن میں کمانڈر اسد اللہ بھی شامل تھے جن پر بارہا عملے کو ہراساں کرنے کے الزامات لگے۔

الزامات کے مطابق کیپٹن عنایت نے ان برطرف افسران کی پشت پناہی کی اور ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کی۔ اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ (نمبر 32/51/2025) دائر کیا گیا ہے جس کی سماعت 28 جولائی کو مقرر ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپٹن عنایت کی بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر تقرری سابق چیئرمین ریئر ایڈمرل جواد (ریٹائرڈ) نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی تھی تاکہ بورڈ کے فیصلوں پر اثرانداز ہوا جا سکے، جن میں ملازمین کے فوائد میں کی جانے والی بڑی کٹوتیاں بھی شامل تھیں۔ ان فیصلوں کے باعث ادارے کے اندر شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ داخلی کشیدگی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر دیگر بورڈ اراکین نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پی این ایس سی ایکشن کمیٹی نے ملازمین کے حقوق کی فوری بحالی اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025