وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ استعمال 481 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے جو گمنام شناخت کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ اکاؤنٹس خالصتاً کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سوشل میڈیا اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے وہ اکاؤنٹس بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس گمنام طور پر اور غیر مصدقہ شناختوں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ ہم اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے معاملے میں ایک حد مقرر کرنا ضروری ہے۔
طلال چوہدری نے زور دے کر کہا کہ یہ تنظیمیں اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا، بشمول سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردانہ پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کو روکنا اب بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی حکام ان اکاؤنٹس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، تاہم مؤثر کارروائی میں رکاوٹ اس وقت آتی ہے جب صارفین کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا اور جب ایک اکاؤنٹ ہٹایا جاتا ہے تو اس کی جگہ بار بار نئے ”میرر اکاؤنٹس“ — یعنی مشابہ نقلی اکاؤنٹس — دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔
انہوں نے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ایسے اکاؤنٹس کو بلاک کریں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے نظام بھی نافذ کریں جو میرر اکاؤنٹس کی تخلیق کو پہچان کر روک سکیں۔ مزید برآں انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے معلومات کے تبادلے اور شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان نیٹ ورکس کے پیچھے موجود افراد کی شناخت میں مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اکاؤنٹس کہاں سے چلائے جارہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شدت پسند دہشت گرد گروہ اظہارِ رائے کی آزادی کی آڑ میں آن لائن سرگرم ہیں، اور ان کے اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بلاک اور حذف کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق مواد پر مبنی 2,417 شکایات اس وقت زیرِ جائزہ ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے بھی انہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی کالعدم تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں گہرے نقصانات اٹھائے ہیں جس میں 90,000 سے زائد جانیں قربان ہوچکی ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک کو بھاری معاشی اور سماجی قیمت چکانی پڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ اب ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز پر پھیل چکا ہے، انہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ مؤثر ریگولیشن اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی ٹیک کمپنیوں کے مقامی دفاتر کے قیام کا خیرمقدم کرے گا تاکہ سیکیورٹی کے معاملات پر نفاذ اور رابطہ کاری کو بہتر بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025