انٹربینک آفرڈ ریٹ (کائبور) کی ایک ہفتے سے چھ ماہ کی مدت کے لیے شرح جمعہ کو کم ہو گئی، جو مارکیٹ میں آئندہ مالیاتی پالیسی میں نرمی کی توقعات کی عکاسی کرتی ہیں۔
کائبور اس اوسط شرحِ سود کی نمائندگی کرتا ہے جس پر بینک ایک دوسرے کو قرض دینے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق یومیہ بنیاد پر ایک ہفتے کا کائبور 3 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 11.34 فیصد پر آ گیا جبکہ دو ہفتوں کی مدت کی شرح بھی 3 بیسس پوائنٹس کی کمی سے 11.23 فیصد ہوگئی۔ ایک ماہ کا کائبور بھی 1 بیسس پوائنٹ کم ہو کر 11.16 فیصد رہا، اور تین ماہ کی مدت کی شرح میں 1 بیسس پوائنٹ کمی کے بعد یہ 10.86 فیصد پر آ گئی۔
6 ماہ کی مدت کی شرح بھی 1 بیسس پوائنٹ کی کمی کے بعد 10.86 فیصد پر آ گئی۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق 6 ماہ کا کائبور41 ماہ کی کم ترین سطح یعنی 10.86 فیصد تک گرچکا ہے جو آخری بار 22 فروری 2022 کو 10.83 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ سربراہ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کائبور میں کمی آئندہ ممکنہ شرح سود میں مزید کمی کی توقعات کے پیش نظر آئی ہے۔
تجزیہ کار ثنا توفیق نے بتایا کہ آئندہ مالیاتی پالیسی میں 50 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی متوقع ہے جس کی بنیاد کم مہنگائی، قابلِ انتظام کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور زرمبادلہ ذخائر کی بہتری ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ خطرات اب بھی موجود ہیں، جن میں حالیہ سیلاب شامل ہیں، جو ممکنہ طور پر غذائی افراطِ زر کا باعث بن سکتے ہیں اور درآمدات میں اضافے کے سبب روپے کی قدر پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس بدھ 30 جولائی کو منعقد ہونے جا رہا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025–26 کے پہلے ایم پی سی اجلاس میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع ہے۔
اسٹیٹ بینک نے 16 جون کو ہونے والے اپنے گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔