تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعہ کو سرحدی تنازعہ کے باعث بھاری گولہ باری کا تبادلہ ہوا، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں بدترین لڑائی کا دوسرا دن تھا۔ اس بڑھتے ہوئے تصادم میں اب تک کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، باوجود اس کے کہ خطے اور عالمی سطح پر فوری جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

تھائی فوج کے مطابق لڑائی جمعہ کی صبح سے پہلے ہی صوبہ اوبون راچتھانی اور سورن میں شروع ہوگئی، جہاں کمبوڈیا نے توپ خانے اور روسی ساختہ بی ایم -21 راکٹ سسٹم استعمال کیے۔ حکام نے بتایا کہ تھائی لینڈ کی جانب سے متاثرہ علاقوں سے ایک لاکھ افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ کمبوڈیائی فورسز نے بھاری ہتھیاروں، فیلڈ آرٹلری اور بی ایم-21 راکٹوں سے مسلسل بمباری کی، جس پر تھائی فوج نے صورتحال کے مطابق جوابی کارروائی کی۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام لگایا کہ جمعرات کو متنازعہ سرحدی علاقے میں شروع ہونے والی لڑائی چھوٹے ہتھیاروں سے بھاری گولہ باری تک پھیل گئی، جو کم از کم چھ مختلف مقامات پر ہوئی۔ سرحدی خودمختاری کا یہ تنازعہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے۔

تھائی لینڈ کی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کی رات تک مرنے والوں کی تعداد 14 ہو چکی تھی، جن میں سے 13 عام شہری تھے، جبکہ 46 افراد زخمی ہوئے، جن میں 14 فوجی شامل ہیں۔ کمبوڈیا کے اوڈار مینچی صوبے کی انتظامیہ کے ترجمان میت میس فیکڈی کے مطابق ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے جبکہ 1,500 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔

تھائی لینڈ نے جمعرات کو چھ ایف -16 جنگی طیارے تعینات کیے، جن میں سے ایک نے کمبوڈیائی فوجی ہدف پر حملہ کیا۔ کمبوڈیا نے اسے بے احتیاط اور سفاکانہ فوجی جارحیت قرار دیا۔

امریکا اور آسیان کے چیئرمین ملیشیائی وزیراعظم انور ابراہیم نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا اور دونوں ممالک سے امن پسند حل کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔