شہرت، دولت، چمک دمک، مداحوں کا دیوانہ پن، مقبولیت کی انتہا، طعن و تشنیع، شرمندگی، پہچان، ظاہری جانچ پرکھ، تنہائی، اندھیرے۔ یہی ہے ایک مشہور شخصیت کی زندگی کی دو رخی حقیقت، روشنی کے ساتھ سایہ، عزت کے ساتھ تنہائی۔
شہرت بظاہر ایک پُرکشش نعمت ہے۔ یہ مقبول بھی ہے اور مطلوب بھی۔ ہر دور میں انسان نے اسے چاہا ہے، اسے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن یہ چمکدار پردہ اکثر گہرے اندھیروں کی خبر نہیں دیتا۔ شہرت نہ صرف نقصان دہ اثرات پیدا کر سکتی ہے بلکہ بعض اوقات ایک ذہنی مجبوری کی صورت اختیار کر لیتی ہے، ایسی کیفیت جو انسان کو اپنے گرداب میں جکڑ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہرت کا سامنا دراصل ایک ایسے فریب سے ہے جو دل کو لبھاتا ہے، مگر دماغ کو بےقرار کر دیتا ہے — ایک ایسا دام جس سے بچنا آسان نہیں۔
ستاروں اور نامور شخصیات کی زندگیوں پر رشک کیا جاتا ہے۔اکثر لوگ ان جیسا بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مگر جو بات نظرانداز کر دی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ شہرت کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے — یہ انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے، اور اس کی گرفت اتنی غیر یقینی ہوتی ہے کہ ہاتھ آ کر بھی پھسل سکتی ہے۔
حال ہی میں دو شوبز ستاروں کی المناک وفات نے ایک بار پھر اس بھاری قیمت کو اجاگر کیا ہے جو یہ لوگ شہرت کے عوض ادا کرتے ہیں۔ ایک سینئر اداکارہ عائشہ خان اور دوسری نوجوان حمیرا اصغر علی، دونوں زندگی کے مختلف مراحل میں تھیں، مگر انجام ایک جیسا تھا۔ یہ حقیقت نہ صرف دردناک ہے بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جو غور و فکر اور خود شناسی کی دعوت دیتا ہے۔
مائیکل جیکسن، جنہیں پاپ کا بادشاہ کہا جاتا ہے، سے لے کر رابن ولیمز، جنہیں کامیڈی کا سلطان قرار دیا جاتا ہے، ان سپر اسٹارز کی زندگیوں اور ان کے چونکانے والی اموات کی کہانیاں ان تمام لوگوں کے لیے عبرت آموز ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ ستارے سب کچھ حاصل کر چکے ہیں۔بہت سے تحقیقی مطالعے کیے گئے ہیں جن میں نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ انہیں کیا چیز خوشی دے سکتی ہے، اکثر کا جواب شہرت اور دولت ہوتی ہے۔ مگر کئی مطالعات یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ شہرت اور دولت خوشی کی کنجی نہیں ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک معروف تحقیق، جو آٹھ دہائیوں پر محیط ہے اور جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ زندگی کے اختتام پر کون لوگ واقعی خوش تھے، اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشی کا انحصار نہ تو شہرت پر تھا، نہ دولت پر، بلکہ اس بات پر تھا کہ ان افراد کے ذاتی اور سماجی تعلقات کس قدر مضبوط، بامعنی اور خلوص پر مبنی تھے۔ شہرت میں ایک عجیب سی خاصیت ہے: یہ انسان کو دنیا سے کاٹ کر ایک ایسی تنہائی میں دھکیل دیتی ہے جہاں اندر ہی اندر اداسی جنم لیتی ہے۔
1۔ شہرت اور بدقسمتی — شہرت جہاں ایک طرف دولت، عزت اور چمک دمک لاتی ہے، وہیں دوسری طرف ایک ایسی بدقسمتی بھی جنم دیتی ہے جو اکثر پردوں کے پیچھے چھپی رہتی ہے۔ صحافی اور مصنف پال برٹن اپنی کتاب ”Misfortune and Fame“ میں لکھتے ہیں: ”ظاہری شان و شوکت اور شاہانہ طرزِ زندگی کے پیچھے غربت اور محرومی چھپی ہوتی ہے۔ ہنسی مذاق اور رنگینی کے بیچ ایک گہری اداسی اور دیوانگی پنپ رہی ہوتی ہے۔“ اکثر لوگ سوشل میڈیا، خصوصاً انسٹاگرام پر مشہور شخصیات کی چمکتی دمکتی زندگیوں کو دیکھ کر مرعوب ہو جاتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان میں سے اکثر اندر سے بکھری ہوئی، مشکل زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ دو ایسی چیزیں جو یقینی طور پر کسی کو ناخوش کر سکتی ہیں: اپنی نجی زندگی کا کھو جانادوسروں کی رائے کا محتاج ہو جانا، بدقسمتی سے مشہور شخصیات دونوں آزمائشوں سے گزرتی ہیں۔ وہ غیرمعمولی اُتار چڑھاؤ کا سامنا کرتی ہیں — کبھی آسمان پر، کبھی زمین پر۔ چاہے وہ شوبز ہو یا کھیل کا میدان، جب یہ ستارے کامیاب ہوتے ہیں، تو دنیا انہیں دیوتا بنا دیتی ہے؛ اور جب وہ ناکام ہوں، تو تنقید، نفرت، اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بےرحم مہمات انہیں اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ ذرا تصور کیجیے: دنیا کی تمام دولت ہونے کے باوجود آپ کہیں آزادی سے جا نہ سکیں، ہر قدم پر کیمرے اور ہجوم آپ کا تعاقب کرے، آپ کو اپنا چہرہ عوام سے چھپانا پڑے، اور سیکیورٹی حصار آپ کی زندگی کو قید بنا دے۔ بھارت کی سب سے مشہور پاور کپل، ورات کوہلی اور انوشکا شرما، کو بالآخر ایک نارمل زندگی گزارنے کے لیے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ انوشکا شرما کے الفاظ خود سب کچھ بیان کر دیتے ہیں: ”ہر انسان کو شہرت اور دولت کا تجربہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ اُسے اندازہ ہو کہ زندگی ان چیزوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔“
2۔ درجہ بندی کا کھیل — ان ستاروں کی زندگی کسی خواب جیسی نہیں، بلکہ مسلسل آزمائش ہے۔ انہیں روزانہ نہیں، بلکہ ہر لمحہ، ہر سیکنڈ مائیکرو اسکوپ کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ ان کی شہرت پر ایک مسلسل گنتی چل رہی ہوتی ہے۔ ہر لفظ، ہر اشارہ، ہر خاموشی، یہاں تک کہ ان کی غیر موجودگی تک کو موضوعِ بحث، تنقید اور افواہوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ دن رات چوکنا رہتے ہیں۔ ان کے پاس مینیجرز اور ٹیمیں موجود ہوتی ہیں جو مسلسل ان کے سوشل میڈیا ”نمبرز“ کو دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں اور انہیں کسی نہ کسی ”حرکت“ پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ ہر پوسٹ، ہر قدم ، چاہے وہ گھر میں ہو، بیڈروم میں، یا جم میں، اس کی ویریلیٹی (virality) کے امکان کے تحت پرکھا جاتا ہے۔ ہر جملہ اس لیے تشکیل دیا جاتا ہے کہ وہ ٹرینڈ کرے۔ ہر تاثر، ہر چہرے کا زاویہ اس لیے ترتیب دیا جاتا ہے کہ وہ ”ویوز“ بڑھا دے۔ یہ سب کچھ بظاہر توانائی سے بھرپور (ہائی ایڈرینالین)، تیز رفتار (ہائی اوکٹین) لگتا ہے، مگر درحقیقت، یہ شدید اضطراب، گھبراہٹ اور نفسیاتی تناؤ کا سامان ہے، جو آخرکار ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور سماجی تنہائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ تو اُن ستاروں کی کہانی ہے جو شہرت کی بلندی پر پہنچ چکے ہیں۔ مگر اُن سیکڑوں، بلکہ ہزاروں فنکاروں کا کیا، جو ابھی صرف ستارہ بننے کی دوڑ میں ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کونے میں دھکیل دیے گئے ہیں، اندر سے زخمی، ٹوٹے ہوئے۔ دنیا بھر میں ان جدوجہد کرتے فنکاروں کا استحصال ایک معمول کی شکل اختیار کر چکا ہے۔طاقتور افراد بےبسوں کو سزا دیتے ہیں۔ ”می ٹو“ تحریک اس حقیقت کی گواہی ہے کہ کیسے اداکار، ہدایتکار، پروڈیوسر اور دیگر بااثر شخصیات ان نووارد فنکاروں کو ہراساں کرتی ہیں، ان کے خوابوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی فنکاروں نے ”کاسٹنگ کاؤچ“ کلچر اور انڈسٹری کے بڑے ناموں کے ہاتھوں ہونے والے استحصال پر آواز اٹھائی ہے۔ ان میں سے بہت سے نوآموز فنکار اپنے گھروں سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں، خاندانوں سے کٹے ہوتے ہیں اور بمشکل روزمرہ کی ضروریات پوری کر پاتے ہیں۔ یہی محرومی انہیں ان درندہ صفت انسانوں کا آسان شکار بنا دیتی ہے جو ان کے خوابوں کو برباد کر کے ان کی زندگیوں کو تاریکی میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہی وہ المناک حقیقت ہے جس میں حمیرا اصغر جیسی کئی اور کہانیاں دفن ہیں، خاموش، بےنام اور دردناک۔
کیا ان واقعات کو صرف اس سوچ کے تحت نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ ”ایسی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں“؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہییں۔ انسانی تذلیل کے خلاف اس قدر سنگدل بےحسی کو روکنے کے لیے ایک فعال، موثر اور ہمدردانہ نظامِ مدد موجود ہونا چاہیے۔
1۔ مواد بنانے والوں سے سکون حاصل کرنے والوں تک — سوشل میڈیا نے جوان ہونے اور بالغ ہونے کے فطری عمل کو مختصر کر دیا ہے۔نوجوان، جو انڈسٹری میں قدم رکھ رہے ہیں، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کی دنیا کی چمک دمک سے متاثر ہو کر سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگر وہ وائرل مواد بنا سکیں تو کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ سنتے ہیں کہ ”مواد بادشاہ ہے“۔مگر یہ مواد ہی انہیں غلام بنا دیتا ہے۔ اگر ان کی پوسٹ کردہ چیزیں انہیں مشہور نہیں کرتیں، تو وہ بےچینی، مایوسی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ان نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواد شائع کریں جو انہیں سمجھائے کہ کیا کام کرتا ہے اور کیا تباہی لاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کو مواد کی دوڑ کے نقصانات کو کہانی کی صورت میں موثر انداز میں بتایا جائے۔ انہیں سکھانا ہوگا کہ اصل خوشی اور اطمینان کا حصول کیسے ممکن ہے، نہ کہ صرف مواد بنانے میں محض مصروف رہنا۔ یہ کام نہایت فوری اور اہمیت کا حامل ہے۔
2۔ خاندان اور دوستی کا سہارا، چاہے آپ کسی بھی پیشے، عمر یا زندگی کے کسی بھی مرحلے پر ہوں، ہر فنکار کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زندگی میں کم از کم ایک خاندان کا فرد اور ایک دوست ایسا ہو جو اس کی جان ہو، ایسا رشتہ جس پر وہ اعتماد کر سکے، چاہے باقی سب اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ دونوں لوگ محض رازدان نہیں، بلکہ آپ کی جذباتی انشورنس ہیں جو آپ کو مشکل گھڑیوں میں بچاتے ہیں۔ ہمیشہ انہیں اپنی زندگی کی ہر صورتحال سے آگاہ رکھیں۔ ہمیشہ ان کی طرف رجوع کریں۔ ہمیشہ ان سے رابطہ قائم رکھیں اور ہر بات، ہر احساس ان کے ساتھ بانٹیں۔
3۔ صنعت کی ذمہ داری، شوبز انڈسٹری کو محض خوبصورت الفاظ میں تعزیت کے پیغامات پوسٹ کرنے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جو صرف وائرل ہو جائیں اور بس۔ ایک تنظیم ہے جسے اے سی ٹی یعنی ایکٹرز کلکٹیو ٹرسٹ، کہا جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ ادارہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے اور واقعی کچھ کرے، یعنی اے سی ٹی کا مطلب سمجھ کر عمل کرے۔
انہوں نے عائشہ اور حمیرا کے لیے دعائیہ تقاریب منعقد کیں، لیکن شرکت بہت کم تھی۔ اصل کام یہ ہے کہ فنکاروں کی ہنگامی ضرورتوں کے لیے فنڈ ریزنگ کا انتظام کیا جائے۔ اسی کے ساتھ، کسی قابلِ اعتماد ادارے کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ مزید برآں، انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ اپنے پینل میں تجربہ کار فنکاروں کو بطور رہنما شامل کرے تاکہ نووارد فنکاروں کو کیریئر سے متعلق مشورے اور مدد فراہم کی جا سکے۔
سوشل میڈیا بےرحم ہے۔ انسٹاگرام بے حس ہے۔ ایک پوسٹ کی زندگی چند گھنٹوں یا دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب میں یہ لکھ رہا ہوں، کئی لوگ اندر سے تکلیف میں ہیں۔ ہماری کمیونٹی اور بھائی چارہ ان کی تکلیف کو موت کے ذریعے ختم کرنے کی بجائے، انہیں زندہ رہنے، جینے اور کسی دوسرے کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ”یہ مرنے کا کوئی طریقہ نہیں“، تو ہمیں یہ بھی عہد کرنا ہوگا کہ ”یہ جینے کا طریقہ بھی نہیں“۔ جیسا کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے، ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025