وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے تحت دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار میں وسعت کے پیشِ نظر چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں فول پروف سیکورٹی انتظامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے بڑے شہروں میں سیکورٹی ڈھانچے اور نگرانی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین ہمارا برادر دوست ملک ہے اور ہمارے چینی بھائیوں کی حفاظت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ہم ایک محفوظ ماحول تشکیل دے رہے ہیں جو طویل مدتی اشتراک اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہو۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ، جو نجی شعبے اور کاروباری شراکت داری پر مرکوز ہے، چینی عملے اور اثاثوں کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
اجلاس کو چینی شہریوں کے تحفظ سے متعلق موجودہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جن میں خصوصی سیکورٹی اسکواڈ کی تعیناتی، رہائشی علاقوں میں ہائی ریزولوشن نگرانی اور ائرپورٹس و سرحدی مقامات پر چینی شہریوں کی تیز رفتار سہولت کاری شامل ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری رابطہ کاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تمام شہری مراکز میں سیف سٹی نظام کی تنصیب کا عمل تیز کیا جائے اور تمام نئے رہائشی منصوبوں میں قومی معیار کے مطابق نگرانی کا انفرااسٹرکچر شامل کرنا یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر مملکت طلال چوہدری اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ”پاکستانی معیشت پر چینی کمپنیوں کا اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے“ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تحفظ کے نظام میں موجود تمام خامیوں کو فوری دور کیا جائے۔
خیال رہے کہ 25 مارچ 2024 کو خیبر پختونخوا کے علاقے بشام، سوات کے قریب ایک دہشت گرد حملے میں داسو ہائیڈروپاور منصوبے پر کام کرنے والے پانچ چینی شہری مارے گئے تھے۔
اس کے بعد چینی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور اپنے شہریوں کے لیے فول پروف سیکورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔