چاول کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 15 فیصد کمی
مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے کمی رہی، یہ اعدادوشمار پیر کو آپٹیمس کیپٹل مینجمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی مجموعی چاول کی برآمدات 5.8 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) رہیں جو گزشتہ مالی سال کے 6 ایم ایم ٹی کے مقابلے میں 3.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
تاہم آمدن کے اعتبار سے صورتحال خاصی مایوس کن رہی۔ چاول کی برآمدات سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 14.7 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 3.93 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3.36 ارب ڈالر رہی۔
یہ کمی بنیادی طور پر عالمی منڈی میں قیمتوں میں گراوٹ، خصوصاً نان باسمتی اقسام کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی جو پاکستان کی چاول برآمدات کا 85 فیصد سے زائد حصہ بنتی ہیں۔
باسمتی چاول کی برآمدات میں مقدار کے لحاظ سے 3 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 797,000 ٹن تک پہنچ گئیں۔ تاہم، اس سے حاصل شدہ آمدنی 5.2 فیصد گھٹ کر 832 ملین ڈالر رہ گئی، جو مالی سال 2024 میں 877 ملین ڈالر تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ اوسط قیمت میں 9.1 فیصد سالانہ کمی رہی جو مالی سال 2024 کے 320.8 روپے فی کلو گرام سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 291.6 روپے فی کلو گرام تک آ گئی۔
دریں اثنا دیگر اقسام کے چاول کی برآمدات میں مقدار کے لحاظ سے 4.7 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 17.4 فیصد کمی واقع ہوئی جو اہم عالمی منڈیوں میں کمزور طلب اور شدید قیمتوں کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ مالی سال 2025 میں نان باسمتی چاول کی برآمدات سے 2.52 ارب ڈالر حاصل ہوئے جو مالی سال 2024 میں 3.05 ارب ڈالر تھے۔
جون 2025 کے دوران چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مئی کے مقابلے میں برآمدات میں 40.6 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جون 2024 کے مقابلے میں 37.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
ماہانہ برآمدی آمدنی بھی کم ہو کر 150 ملین ڈالر رہ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 50 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 37.4 فیصد کم ہے۔
دریں اثنا مالی سال 2025 میں چاول کا حصہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں کم ہو کر 10.5 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ مالی سال میں 12.8 فیصد تھا۔
آمدنی میں نمایاں کمی کے باوجود چاول کا شعبہ پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ کے حصول میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔