دنیا

کرپٹو سیکٹر کی مارکیٹ ویلیو 4 کھرب ڈالر سے تجاوز

  • ضابطہ جاتی اقدامات اور ادارہ جاتی دلچسپی نئی بلندیوں کا سبب بن گئی
شائع July 19, 2025 اپ ڈیٹ July 19, 2025 03:16pm

کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی مجموعی قدر جمعہ کو 4 کھرب ڈالر کی حد پار کرگئی، جو کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی عالمی سطح پر قبولیت کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ کوائن گیکو کے مطابق، یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ کرپٹو اب قیاسی سرمایہ کاری سے بڑھ کر عالمی مالیاتی منظرنامے کا مرکزی حصہ بنتا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں ضابطہ جاتی وضاحت کی امید، ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور خوردہ و کارپوریٹ صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی شامل ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں کرپٹو کے حوالے سے اہم بل منظور کیے، جن میں سے ایک اسٹیبل کوائنز کے لیے ایک ضابطہ جاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ان بلوں کو اب سینیٹ میں غور کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

ایکوئٹی ریسرچ کے سربراہ، ہارگریوز لینزڈاؤن کے ڈیرن نیتھن کا کہنا ہے، “ٹرمپ کی قانون سازی کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے، اگرچہ قانون ساز اب بھی کچھ احتیاط برت رہے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے قانون سازوں نے دو مزید کرپٹو بل بھی منظور کیے، جنہیں اب غور کے لیے سینیٹ کو بھیجا گیا ہے۔ ان میں سے ایک بل کرپٹو کے لیے ایک ضابطہ جاتی فریم ورک وضع کرتا ہے جبکہ دوسرا بل امریکا کو مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

چار کھرب ڈالر کا سنگِ میل اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کرپٹو انڈسٹری کتنی آگے آ چکی ہے۔ اثاثہ جات کے منتظمین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی، نئے ایکسچینج ٹریڈڈ پروڈکٹس اور خوردہ و کارپوریٹ صارفین میں وسیع تر قبولیت کے ساتھ، ڈیجیٹل اثاثے عالمی مالیاتی گفتگو پر تیزی سے اثر انداز ہورہے ہیں۔

کوائن فنڈ کے صدر کرس پرکنز کے مطابق جینیس ایکٹ تاریخ میں ایک ایسے قانون کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے کرپٹو کو ایک اثاثہ جاتی درجہ دینے اور اسے مرکزی دھارے میں لانے کی بنیاد رکھی۔

کارپوریٹ خزانے کی سطح پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک بڑھتی ہوئی تعداد میں عوامی کمپنیاں اس ٹوکن کو اپنی بیلنس شیٹس میں طویل مدتی قدر کے ذخیرے کے طور پر شامل کررہی ہیں۔

یہ شعبہ آخری بار مجموعی مارکیٹ ویلیو میں 3.92 کھرب ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا، کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن، 1.8 فیصد گرگئی۔

مارکیٹ میں تیزی کے باعث بٹ کوائن اور ایتھر جیسے بڑے کرپٹو اثاثوں کی قدر میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بٹ کوائن نے اس ہفتے کے اوائل میں پہلی بار 120,000 ڈالر کی حد عبور کی جب کہ برن اسٹین کی پیش گوئی ہے کہ یہ 2025 کے اختتام تک 200,000 تک پہنچ سکتا ہے، تاہم جمعہ کو یہ 1.8 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کررہا تھا، جب مجموعی مارکیٹ ویلیو 3.92 کھرب ڈالر پر آ گئی تھی۔

ایتھرجو مارکیٹ میں دوسرا بڑا ٹوکن ہے، آخری بار 4.5 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کررہا تھا اور گزشتہ 3 ماہ میں اس کی قدر دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

اس تیزی نے کرپٹو سے منسلک اسٹاکس کو بھی نئی بلندیاں عطا کیں۔ کوائن بیس اور رابن ہُڈ کے حصص جمعے کو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچے۔ کوائن بیس کے شیئرز میں 1 فیصد جبکہ رابن ہُڈ، جو کہ کرپٹو ٹریڈنگ بھی فراہم کرتا ہے، کے حصص میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایتھر سے متعلق دیگر اسٹاکس نے بھی مجموعی طور پر مثبت کارکردگی دکھائی۔

اسٹیبل کوائنز — جو ڈالر جیسی مستحکم کرنسی کے ساتھ 1:1 تناسب برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں — کا استعمال بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ کرپٹو ٹریڈرز کے درمیان رقوم کی منتقلی کے لیے ایک مقبول ذریعہ بن چکے ہیں، اور ماہرین کے مطابق مستقبل میں فوری ادائیگیوں کا مؤثر حل بن سکتے ہیں۔