انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 10 پیسے کی بہتری سے 284.87 پر جاپہنچا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو روپیہ 284.97 پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر مسلسل دوسرے ہفتے بڑے کرنسی شراکت داروں کے مقابلے میں مستحکم رہا جس کی وجہ کچھ مضبوط امریکی معاشی اعدادوشمار تھے جنہوں نے اس خیال کو تقویت دی کہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں دوبارہ کمی سے پہلے کچھ مزید انتظار کرسکتا ہے۔
جاپان میں اتوار کو ہونے والے ایوانِ بالا کے انتخابات سے قبل ین دباؤ کا شکار رہا کیونکہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد کو اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ ہے — ایک ایسا امکان جو پالیسی میں غیریقینی صورتحال پیدا کرسکتا ہے اور امریکہ کے ساتھ محصولات سے متعلق مذاکرات کو پیچیدہ بناسکتا ہے۔
بِٹ کوائن اس ہفتے 123,153.22 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 120,000 ڈالر سے کچھ نیچے ٹریڈ کررہا ہے، جب کہ کانگریس نے ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز کے لیے فریم ورک تشکیل دینے کا بل منظور کر لیا۔
ڈالر انڈیکس جمعرات کو 98.951 تک پہنچ گیا، جو 23 جون کے بعد پہلی بار اتنی بلند سطح پر آیا، جب امریکی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ جون میں ریٹیل سیلز توقع سے زیادہ بحال ہوئیں اور گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے پہلی بار کی جانے والی درخواستیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔
ہفتے کے آغاز میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون میں صارف قیمتوں میں پانچ ماہ کے دوران سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محصولات (ٹیرِفز) افراطِ زر پر اثر ڈالنا شروع ہوچکے ہیں۔
تاجر اس وقت سال کے بقیہ عرصے کے لیے تقریباً 45 بیسز پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کی قیمت لگا رہے ہیں جو کہ ہفتے کے آغاز میں تقریباً 50 بیسز پوائنٹس کے قریب ہے۔
اسی دوران ڈالر انڈیکس رواں سال کے دوران اب تک 9.3 فیصد نیچے ہے جس کی بنیادی وجہ مارچ اور اپریل میں شدید فروخت رہی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع تجارتی پالیسیوں نے امریکی اثاثوں پر اعتماد کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں ڈالر، ٹریژری بانڈز اور وال اسٹریٹ تینوں نیچے آ گئے۔