نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز کابل میں افغانستان کے قائم مقام وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سیکورٹی تعاون اور سرحدی نظم و نسق سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ملاقات ازبکستان، افغانستان اور پاکستان (یو اے پی) ریلوے کوریڈور سے متعلق مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ وسطی ایشیا کو افغانستان کے راستے پاکستان کی بندرگاہوں سے منسلک کرنے کی غرض سے ایک اہم علاقائی رابطہ اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔

۔

مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے خطے میں سیکورٹی خطرات کے خاتمے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور امن و استحکام کے قیام کے لیے قریبی تعاون پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی تعاون اور علاقائی انضمام کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سیکیورٹی اور سرحدی نظم و نسق سے متعلق تمام خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک اور سیکورٹی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ ملاقات پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان نائب آباد خرلاچی ریلوے لنک کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کے فوری بعد ہوئی، جو یو اے پی ریلوے منصوبے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔

کابل میں اس تقریب دستخط کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اس منصوبے کو علاقائی اقتصادی انضمام کی جانب ایک ”انقلابی قدم“ قرار دیا ہے۔

انہوں نے سابق پی ڈی ایم حکومت، بالخصوص وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت میں، بطور وزیرِ خزانہ اس منصوبے کی بنیاد رکھنے پر بھی روشنی ڈالی۔

اسی دورے کے دوران اسحاق ڈار نے افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے بھی ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں تسلسل برقرار رکھنے اور تجارت، ٹرانزٹ اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ مشترکہ علاقائی اہداف کو تقویت دی جا سکے۔

اس ملاقات میں فریقین نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان میں سیکورٹی سے متعلق پہلوؤں کو شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے اور سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل سے وابستگی کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔