بھارت نے پیر کے روز اپنی ایئرلائنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بوئنگ کے کئی ماڈلز میں فیول سوئچز کی جانچ کریں، جبکہ جنوبی کوریا نے بھی اسی قسم کے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ہدایات ایئر انڈیا کے مہلک فضائی حادثے کی تحقیقات کے دوران فیول سوئچ لاکس پر بڑھتی ہوئی توجہ کے بعد سامنے آئی ہیں۔
بھارت، جنوبی کوریا اور کچھ دیگر ممالک کی ایئرلائنز کی جانب سے یہ احتیاطی اقدامات اس کے باوجود کیے جا رہے ہیں کہ بوئنگ اور امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے حالیہ دنوں میں ایئرلائنز اور ریگولیٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بوئنگ طیاروں میں موجود فیول سوئچ لاکس محفوظ ہیں۔
تاہم، گزشتہ ماہ ایئر انڈیا کے ایک طیارے کے حادثے کے بعد ان لاکس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیک آف کے فوراً بعد فیول سوئچز تقریباً ایک ساتھ ’رن‘ پوزیشن سے ’کٹ آف‘ پوزیشن پر چلے گئے۔ کوک پٹ وائس ریکارڈر پر ایک پائلٹ کو یہ کہتے سنا گیا کہ تم نے فیول کیوں بند کیا؟ جس پر دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ 2018 میں ایف اے اے نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں، بغیر لازمی قرار دیے، 787 سمیت کئی بوئنگ ماڈلز کے آپریٹرز کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ فیول کٹ آف سوئچز کے لاکنگ فیچر کی جانچ کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ حادثاتی طور پر نہ حرکت کریں۔
بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے بتایا کہ اس نے بوئنگ 787 اور 737 سمیت کئی ماڈلز میں موجود لاکس کی جانچ کا حکم دیا ہے، جب کہ کئی بھارتی اور بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنے طور پر بھی ان فیول سوئچز کی جانچ شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ ڈی جی سی اے دنیا کی تیسری بڑی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ہوا بازی کی مارکیٹ کی نگرانی کرتا ہے، اور بھارت کی چار میں سے تین بڑی ایئرلائنز بوئنگ طیاروں کا استعمال کرتی ہیں۔