طبی اور صحت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) نے پاکستان کی پہلی مقامی انسانی اینٹی ریبیز ویکسین کی لیب اسکیل فارمولیشن کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔

یہ اہم کامیابی ملک کو ان کتوں کے کاٹے کے واقعات سے نمٹنے میں خود کفالت کی جانب گامزن کرتی ہے، جو ہر سال کئی قیمتی جانیں لے لیتے ہیں۔

فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی مقامی انسانی ویکسین ہے جو ملکی سطح پر حاصل کردہ بایولوجیکل مالیکیول سے تیار کی گئی ہے — جو کہ ملکی صحت اور طبی سائنس کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کرتی ہے۔

یہ منصوبہ ورلڈ بینک کی معاونت سے مکمل ہوا جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اس پر عمل درآمد کیا۔

ڈاؤ یونیورسٹی نے گزشتہ سال چین سے درآمد شدہ خام مال سے اینٹی ریبیز ویکسین کی تجارتی پیداوار شروع کی تھی جسے ’Dow Rab‘ کا نام دیا گیا۔ اب یونیورسٹی نے اپنا مقامی بایو مالیکیول تیار کیا ہے، جسے مستقبل میں ویکسین کی تیاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس پیش رفت سے پاکستان کو اربوں روپے مالیت کی درآمدی ویکسین پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یونیورسٹی کی ویب سائٹ، لنکڈ ان پوسٹ اور حکام کی بزنس ریکارڈر سے بات چیت کے مطابق”یہ صاف شدہ، غیر فعال، اور لائیوفلائزڈ ویکسین مقامی طور پر علیحدہ کیے گئے ریبیز وائرس کے اسٹین سے تیار کی گئی ہے، جو پاکستان میں ریبیز کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔“

لیبارٹری سطح پر کامیابی حاصل ہونے کے بعد اب یہ منصوبہ کلینیکل ٹرائل بیچز کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہوگا، تاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈراپ) کی منظوری حاصل کی جا سکے — جو ملکی سطح پر ویکسین کی پیداوار اور استعمال کی جانب ایک اور قدم ہو گا۔

پاکستان میں ویکسین کی موجودہ صورتحال

یونیورسٹی آف کراچی میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) میں حالیہ تقریب کے دوران، میکٹر فارما کے ڈائریکٹر کوالٹی آپریشنز و بایوٹیک، فاروق مصطفیٰ نے کہا کہ پاکستان مکمل طور پر درآمدی ویکسینز پر انحصار کرتا ہے، جو ہر سال جی اے وی آئی، یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کی معاونت سے یا رعایتی قیمت پر فراہم کی جاتی ہیں — جن کی مجموعی مالیت تقریباً 26 ارب روپے بنتی ہے۔

تاہم جی اے وی آئی کی یہ معاونت 2031 میں ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد ملک کو ویکسین کی درآمد پر سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے ہوں گے — جو وفاقی وزارتِ صحت کے موجودہ بجٹ (27 ارب روپے) سے چار گنا زیادہ ہے۔

یہ صورتحال جہاں ایک جانب پاکستان کے صحت کے نظام میں ممکنہ بحران کی نشاندہی کرتی ہے، وہیں یہ ملک کے لیے اندرونِ ملک ویکسین سازی میں خود انحصاری حاصل کرنے کا ایک نایاب موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

فاروق مصطفیٰ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہپاکستان اب تک امیونائزیشن کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کی ویکسینز کے لیے کوئی بھی اینٹی جن خود تیار نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہاہمارے پاس ضروری سیڈ بینکس موجود نہیں، جامعہ کی سطح پر ویکسین ڈیولپمنٹ کے پروگرامز نہ ہونے کے برابر ہیں، اور ہماری ریگولیٹری گائیڈ لائنز ویکسین سازی کے جدید تقاضوں کے لیے ناکافی ہیں۔

اسی طرح، ہمارے ہاں کلینیکل ٹرائلز کے لیے مہارت بھی شدید حد تک محدود ہے، جس کی وجہ سے مقامی ویکسینز کو مارکیٹ تک پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔