پاکستان میں کوورکنگ اسپیسز کا منظرنامہ حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر ترقی کرچکا ہے جہاں اب سینکڑوں مقامات قائم ہوچکے ہیں، زیادہ تر کی گنجائش مکمل ہے اور متحرک کمیونٹیز سرگرم عمل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوورکنگ انڈسٹری کو فروغ دینا آئی ٹی شعبے کی ترقی اور ترسیلات زر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس صنعت سے وابستہ کاروباری افراد کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک ون ونڈو آپریشن کا آغاز کرے۔

کوورکنگ اسپیسز کیوں اہم ہیں؟

کوورکنگ اسپیسز فری لانسرز، اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی میں مدد فراہم کرتی ہیں—خصوصاً چھوٹے شہروں میں۔ یہ صرف مشترکہ دفاتر نہیں، بلکہ وہ جگہیں ہیں جہاں خیالات اور کاروبار جنم لیتے ہیں۔

یہ اسپیسز کم لاگت اور لچکدار ورک اسپیس فراہم کرتی ہیں جو اضافی اخراجات کم کرنے اور ترقی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ٹیک کمپنیاں ایسے باہمی تعاون پر مبنی کوورکنگ اسپیسز میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوتی ہیں جیسے دفترخوان، کولیبز اور دی ہائیو، جہاں انہیں سرپرستوں، سرمایہ کاروں اور ایک معاون کمیونٹی تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

یہ مشترکہ ماحول تخلیقی صلاحیت، مسائل کے حل اور مصنوعات کی تیزتر ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔

اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کو پروڈکٹ ڈیولپمنٹ پر مرکوز رکھ سکتے ہیں۔ فری لانسرز کو ایک پیشہ ورانہ ماحول بھی میسر آتا ہے جو کلائنٹس کے ساتھ ان کی ساکھ کو بہتر بناتا ہے اور تنہائی کے احساس کو کم کرتا ہے۔

یہ اسپیسز ایک مضبوط کمیونٹی کا احساس پیدا کرتی ہیں جو قیمتی نیٹ ورکنگ، رہنمائی (منٹورشپ) اور باہمی تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ خاص طور پر ٹیک کمپنیاں ان جگہوں کو اس لیے اہم سمجھتی ہیں کہ یہاں انہیں سرمایہ کاروں کے نیٹ ورکس، کاروباری معاونت کی خدمات اور باصلاحیت افراد تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جو اکثر کوورکنگ ایکو سسٹمز کا حصہ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، کوورکنگ کا ماحول مختلف شعبوں کے درمیان علم کے تبادلے کو فروغ دیتا ہے — جو ٹیکنالوجی پر مبنی مسائل کے حل کے لیے نہایت اہم ہے۔

حکومتی معاونت کی ضرورت

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے اس صنعت کے بانیوں میں سے ایک، ورک مور (WorkMore) کے سی ای او عابد بیلی نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر ایک جامع پالیسی بنانے، ون ونڈو آپریشن متعارف کرانے اور صنعت سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے کو مؤثر طور پر فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ترسیلات زر کی آسانی سے وصولی کو یقینی بنائے تو وائٹ منی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ٹیک کمپنیوں کو سہولیات فراہم کی جائیں تو قومی معیشت غیر معمولی رفتار سے ترقی کرسکتی ہے۔

ان کے مطابق اس صنعت کو درپیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران کی جانب سے کمیشن اور رشوت کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی سال میں مجھے مختلف محکموں کے تقریباً 17 افسران کا سامنا کرنا پڑا۔

عابد بیلی کا ماننا ہے کہ سرکاری افسران کو انفرادی کاروباری افراد کے پاس جانے کے بجائے حکومت کی منظور شدہ تنظیموں یا ایسوسی ایشنز کے ذریعے آنا چاہیے، جیسے کہ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی)، جہاں کوورکنگ اسپیسز رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری رہنما تمام قواعدوضوابط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت انہیں واضح طور پر جاری کرے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کمپنیاں انصاف، قوانین، ضابطوں اور امن و امان کے مؤثر نفاذ کے فقدان کے باعث اپنا کاروبار بیرونِ ملک منتقل کررہی ہیں۔

اگر کوئی معمولی سا مسئلہ بھی درپیش ہو تو وہ اندرونی سورس کے بغیر حل نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی کام کے لیے اگر اندرونی سورس نہ ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا، ایسی مشکلات نہیں آنی چاہئیں، خاص طور پر جب کوئی کمپنی باقاعدگی سے اپنے ٹیکس ادا کر رہی ہو۔

عابد بیلی نے بتایا کہ انہوں نے 2015 میں ملک کا پہلا کوورکنگ اسپیس ’دی انکیوبیٹر کے نام سے قائم کیا جس کے بعد ملک بھر میں دیگر کوورکنگ اسپیسز تیزی سے سامنے آنا شروع ہوگئیں۔

اس وقت ملک بھر میں 210 سے زائد کوورکنگ اسپیسز موجود ہیں جن میں سے صرف کراچی میں 96 ہیں جب کہ لاہور، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد اور دیگر چھوٹے شہروں میں بھی یہ سہولتیں دستیاب ہیں۔

کراچی میں کوورکنگ اسپیسز تقریباً ہر علاقے میں موجود ہیں۔

عابد بیلی نے کہا کہ اس صنعت میں اب بھی ترقی جاری ہے مگر رفتار سست ہے۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی کے سینئر ماہر اور نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) کراچی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید اظفر حسین کا کہنا تھا کہ ٹیک کمپنیاں اور فری لانسرز اکثر کوورکنگ اسپیسز کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ سہولتیں لچکدار، کم لاگت اور وسائل سے بھرپور ماحول فراہم کرتی ہیں جو جدت اور باہمی تعاون کے لیے نہایت موزوں ہوتے ہیں۔

روایتی دفاتر کے برعکس کوورکنگ اسپیسز اور انکیوبیشن سینٹرز، جیسے این ئی سی کراچی، مشترکہ انفرااسٹرکچر فراہم کرتے ہیں — جیسے تیز رفتار انٹرنیٹ، میٹنگ رومز اور آئی ٹی سپورٹ — وہ بھی بغیر طویل مدتی معاہدوں یا بھاری ابتدائی اخراجات کے۔

اظفر حسین نے کہا کہ حکومت کو کوورکنگ اسپیسز چلانے والے کاروباری افراد کی معاونت کرنی چاہیے، جس کے لیے سستی بنیادی سہولیات، ٹیکس میں رعایت، اور فنڈنگ و رجسٹریشن تک آسان رسائی فراہم کی جانی چاہیے۔

حکومتی کوششیں

وفاقی سطح پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اِگنائٹ کے اقدامات نے ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور اسٹارٹ اپس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے—جب کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹرز (این آئی سیز) بھی معاون کوورکنگ اسپیسز کے طور پر اسٹارٹ اپ حب کا بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔

صوبائی سطح پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی پی) نے جدت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ’ای۔ ارن‘ (e-Earn) کوورکنگ اسپیسز کا آغاز کیا ہے — جو فری لانسرز، ریموٹ ورکرز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے تیار کردہ، حکومت کی معاونت سے چلنے والا سبسڈائزڈ کوورکنگ اسپیسز کا نیٹ ورک ہے جو پورے صوبے میں دستیاب ہے۔

اظفر حسین نے کہا کہ کوورکنگ اسپیسز خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت کے فروغ کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اسٹوڈنٹ لون پلیٹ فارم Edufi کی مثال دی، جو ایک کامیاب اسٹارٹ اپ ہے اور جس نے کمیونٹی کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان سے باہر بھی کئی مقامی اسٹارٹ اپس نے عالمی سطح پر معروف کوورکنگ ہبز جیسے WeWork یا Factory Berlin سے فائدہ اٹھا کر اپنی رسائی میں توسیع کی ہے، بین الاقوامی نیٹ ورکس قائم کیے ہیں اور سرحد پار سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی اے ایف ایل اے) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ کوورکنگ اسپیسز تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے مراکز کے طور پر ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیتی ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی اور اس کی عالمی سطح پر شناخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

عابد بیلی اور اظفر حسین کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے ابراہیم امین نے کہا کہ حکومت کو کوورکنگ اسپیسز چلانے والوں کے لیے سبسڈائزڈ یوٹیلیٹی نرخ، ٹیکس میں مراعات اور طویل مدتی سستے کرائے فراہم کرنے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ سادہ کاروباری رجسٹریشن اور زوننگ پالیسیز کوورکنگ اسپیسز کے قیام کو مزید آسان بناسکتی ہیں، گرانٹس یا آسان شرائط پر قرضوں کے ذریعے کم لاگت مالی معاونت انفرااسٹرکچر اور رسائی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ قابلِ بھروسہ انٹرنیٹ، بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، جامعات اور سرکاری اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے ان ہبز میں ٹیلنٹ اور وسائل کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

’ایسے اقدامات کوورکنگ اسپیسز کے منتظمین کو اپنی صلاحیت بڑھانے کے قابل بنائیں گے اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کے ایکو سسٹم کو مضبوط کریں گے۔