ملک میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہو چکا ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے جبکہ شہری و دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
اتوار کی صبح چکری کے قریب راولپنڈی سے ملتان جانے والی بس پھسلن کے باعث سڑک سے اترگئی جس کے نتیجے میں کم از کم چار مسافر جاں بحق جبکہ دو درجن کے قریب زخمی ہوگئے۔
ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ بارشوں سے سڑک پر شدید پھسلن پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال راولپنڈی اور پمز اسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ جاں بحق افراد میں 50 سالہ ثمینہ شامل ہیں، جب کہ دیگر تین افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔
ایک الگ واقعے میں اہلکار نے بتایا کہ مظفرگڑھ کے علاقے بستی ستھیاری جتوئی کے قریب دیوار گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ کوٹ ادو کے چوک سرور شہید میں ہوٹل کی چھت گرنے سے ایک اور شخص زخمی ہوا۔
اوکاڑہ میں نعیم آباد ہیڈ سلیمانکی روڈ پر آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد، 16 سالہ انعم اور 17 سالہ اسد جاں بحق ہوگئے۔
صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش سے متعلقہ دیگر واقعات میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ اسپیل 17 جولائی تک برقرار رہے گا، آج نیوز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
لاہور، صادق آباد، کوٹ ادو، کمالیہ، راجن پور، خان پور، ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ دیکھنے میں آئی۔ مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث متعدد پاور فیڈرز ٹرپ کر گئے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ چترال، سوات، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، کوہستان، تورغر، بٹگرام اور دیگر بالائی اضلاع میں ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
تونسہ شریف میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے متعدد پل زیرِ آب آ گئے جس کے باعث راستے منقطع ہوگئے۔ مقامی رہائشیوں نے شکوہ کیا کہ سیلاب ریلیف کیمپ موجود نہیں اور وہ کھلے آسمان تلے شدید موسم کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
تونسہ شریف میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے متعدد پل زیرِ آب آ گئے جس کے باعث راستے منقطع ہوگئے۔ مقامی رہائشیوں نے شکوہ کیا کہ یہاں ریلیف کیمپ موجود نہیں اور وہ کھلے آسمان تلے شدید موسم کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اسی طرح صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں، ریسکیو ٹیموں، واسا کے عملے اور مشینری کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ 24/7 کنٹرول روم بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جاسکے۔
- اوکاڑہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی
- ساہیوال میں 66 ملی میٹر
- ڈیرہ غازی خان میں 51 ملی میٹر
- میانوالی میں 38 ملی میٹر
- بہاولپور میں 36 ملی میٹر
- کوٹ ادو میں 33 ملی میٹر
- گوجرانوالہ میں 30 ملی میٹر
- لیہ میں 23 ملی میٹر
- مری میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی
راولپنڈی، اٹک، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور لودھراں میں بھی بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔