آج کی باہم جڑی دنیا اور نئے عالمی نظام میں تجارتی راہداریاں نہ صرف عالمی معیشت کی اہم شاہراہیں ہیں بلکہ جغرافیائی سیاست اور اسٹرٹیجک اثر و رسوخ کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن چکی ہیں۔عالمی تجارت اس وقت برق رفتاری سے جاری ہے، لیکن سویز کینال، آبنائے ہرمز یا آبنائے ملاکا جیسے اہم سمندری راستوں کی ممکنہ بندش کا خطرہ خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے لیے مسلسل بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے۔
ایسے میں ممالک متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔ اگرچہ سمندری راستہ مال برداری کے لیے سب سے کم لاگت والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات اور ان کے غیر متوقع نتائج تجارت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا آغاز کیا، جس میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
راہداریوں کے ذریعے مال کی ترسیل اب ریلوے، سڑک اور سمندر کے راستے جڑ کر ایک مربوط نظام کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ تاہم ان راہداریوں کے راستے میں موجود ممالک کے درمیان کشیدگی اور تصادم ان کی کامیابی اور مطلوبہ حجم کے حصول میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
عالمی تجارت پر اس وقت بھی اثر انداز ہوا جاتا ہے جب طاقتور عالمی یا علاقائی قوتیں اپنی بات نہ ماننے والے ممالک پر یکطرفہ اور نقصان دہ معاشی پابندیاں لگا دیتی ہیں۔ اکثر اوقات یہ پابندیاں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے لگائی جاتی ہیں، جو ان ہی ممالک کی مالی معاونت پر چلتی ہے۔
روس نے اس تناظر کو سمجھتے ہوئے اپنے مخصوص اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک متبادل راہداری شروع کی۔ انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) کا آغاز 2000 میں روس، بھارت اور ایران نے کیا، تاکہ سویز کینال کا متبادل فراہم کیا جا سکے اور سامان کی ترسیل میں وقت اور لاگت دونوں کم کی جا سکیں۔ اب تک بیلاروس، قازقستان، تاجکستان، عمان، آرمینیا، آذربائیجان، یوکرین، کرغزستان، شام، ترکیہ اور اب پاکستان اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔
آئی این ایس ٹی سی کو بی آر آئی کے ساتھ متوازی طور پر فعال کیا جانا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے ممالک یوریشیا کی دیگر ریاستوں سے جڑ سکیں۔ پاکستان اب اس نئے منصوبے میں شامل ہو چکا ہے کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر،
پاکستان کو برکس میں شامل نہیں کیا گیا،اور وہ آئی این ایس ٹی سی کے ابتدائی ارکان میں بھی شامل نہیں تھا۔یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ سی اے پی آر آئی کے نام سے ایک ذیلی علاقائی معاشی، سیاسی اور دفاعی بلاک تشکیل دیا جائے، جو پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں جغرافیائی اہمیت کا مؤثر ذریعہ فراہم کر سکے۔ سی اے پی آر آئی میں چین، افغانستان، پاکستان، روس اور ایران شامل ہوں، اور اسے آئی این ایس ٹی سی اور بی آر آئی سے منسلک کیا جا سکے۔
یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ممالک بدلتے عالمی حالات کے مطابق اپنی خارجہ پالیسیاں اور اتحاد تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ اس وقت بی آر آئی میں شامل ممالک پر چین کے اثر کو محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسرائیل کی اسٹریٹجک رہنمائی میں امریکہ اور بھارت کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات قائم ہوئے، جس کے بعد روس نے بھارت کے ساتھ اپنے معاشی و دفاعی تعلقات پر ازسرنو غور کرنا شروع کیا۔
آئی این ایس ٹی سی پاکستان اور روس دونوں کے لیے ایک مؤثر راستہ بن سکتا ہے، اور کراچی سے روانہ ہونے والی پہلی مال بردار ٹرین مستقبل کے ایک بڑے اتحاد کی علامت ہو سکتی ہے۔ پاکستان اس منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ پالیسی ساز اور سیاستدان آئی این ایس ٹی سی کو ویسا سیاسی کھیل نہ بنائیں جیسا مبینہ طور پر سی پیک کے ساتھ کیا گیا۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کے مطابقپاکستان کا آئی این ایس ٹی سی میں شامل ہونا بالکل منطقی ہے کیونکہ اس کا محلِ وقوع اس راہداری کے قدرتی راستے پر ہے۔“
۔۔
گوادر پورٹ کے بارے میں تمام تر توقعات اور تشہیر کے باوجود، اسے مکمل طور پر فعال اور بھرپور سرگرمیوں والا بندرگاہ بننے میں کئی سال لگیں گے۔ تاہم آئی این ایس ٹی سی اور بی آر آئی کی مدد سے گوادر کو ایک مکمل فعال ٹرانزٹ بندرگاہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے وہ علاقائی رابطے کا مرکز بن سکتا ہے اور متعدد ممالک کے لیے تجارت کے فروغ کا سہولت کار بھی۔
تاہم، اس راستے میں بڑے بڑے پتھر حائل ہیں، جیسے کہ:بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون سے گریز،امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کی تلوار،بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال،اور دہشتگردی کا خطرہ۔
کچھ سال قبل، اُس وقت کے وزیراعظم نے ماسکو کا دورہ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ایک ایسا موافق تعلق قائم کرنا تھا جو پاکستان کو برآمدی منڈیوں کے تحفظ، خام مال کی فراہمی، ترقیاتی فنانسنگ کے ذرائع اور سلامتی کے ضامن کے طور پر مدد فراہم کر سکتا۔تاہم، روس-یوکرین جنگ نے پاکستان اور روس کے درمیان ایک مضبوط تجارتی و سرمایہ کاری تعلق کی رفتار کو شدید متاثر کیا۔مگر صدر ولادیمیر پیوٹن اب اپنے پیشروؤں سے مختلف پالیسی اختیار کر رہے ہیں، جو ماضی میں زیادہ تر صرف بھارت پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔
پیوٹن نے نئے جغرافیائی و اسٹرٹیجک حقائق کو بھانپ لیا ہے، اور یہ روس اور پاکستان دونوں کے لیے چین اور دیگر ممالک کے ساتھ اشتراک کا ایک دو طرفہ فائدے والا موقع ہے۔پاکستان نے ماضی میں ہمیشہ ”آزاد خارجہ پالیسی“ کا دعویٰ کرتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کی،لیکن اس ”آزاد مؤقف“ کو کبھی اقتصادی سفارت کاری میں مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا گیا،جس کی وجہ سے اسلام آباد کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں مل سکا۔
بھارت پر حالیہ فتح اور اسرائیل-ایران تنازع نے پاکستان کے لیے عالمی توازن میں جھکاؤ کو بدل دیا ہے۔دوسری طرف، دیگر ممالک نے سیاسی اور اقتصادی سفارت کاری کو یکجا کر کے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
آئی این ایس ٹی سی کی ہموار کامیابی کا انحصار بڑی حد تک ایران کے داخلی ماحول پر ہے۔یوریشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق، آئی این ایس ٹی سی کے ذریعے 2030 تک سالانہ 3 کروڑ ٹن سامان کی ترسیل متوقع ہے،جس سے ایران کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔یہ ایران کے لیے لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور معاشی صلاحیت میں توسیع کا موقع ہو گا۔لیکن دوسری طرف، ایران پر امریکی اقتصادی پابندیاں آئی این ایس ٹی سی سے جڑی عالمی کمپنیوں کی شمولیت میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
یہی آئی این ایس ٹی سی کی طویل المدتی کامیابی کا ”ایکیلیز ہیل“ (کمزوری کا سب سے نازک پہلو) ہے۔برکس ممالک ڈالر سے ہٹ کر ایک نئے کثیرالملکی مالیاتی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں،لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک کو دی گئی سخت تنبیہ —جو اس ابھرتے مالیاتی اتحاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں — قلیل مدت میں انہیں روک سکتی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے اسٹیفن پی. گراف نے ایک بار پاکستان جیسے ممالک کے بارے میں کہا تھا کہ”اگر ممالک مؤثر قومی سڑک، توانائی، اور شہری انفراسٹرکچر تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں، اور یہ نظام بعد میں وسیع علاقائی نیٹ ورکس سے جُڑ جائے، تو ایشیا کی ترقی کے ثمرات سرحدوں کے پار بہت وسیع پیمانے پر بانٹے جا سکتے ہیں۔“
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025