پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) ہمیشہ سے بغیر کسی دعوے یا نمائش کے، جب بھی آزمائش آئی، اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کرتی رہی ہے۔
تازہ ترین اعتراف چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل وانگ گانگ کی جانب سے سامنے آیا، جنہوں نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پی اے ایف کی کارکردگی کو ”درستی، نظم و ضبط اور جرأت“ کی نصابی مثال قرار دیا۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں ایئر ہیڈ کوارٹرز کے ایک اعلیٰ سطح دورے کے دوران کہی، اور ساتھ ہی پی اے ایف کی جنگ آزمودہ ”ملٹی ڈومین آپریشنز“ کے انضمام سے سیکھنے میں چین کی دلچسپی کا اظہار بھی کیا — جو خود بہت کچھ بتاتا ہے۔
یہ وہ تعریف نہیں ہے جو بیجنگ کسی کو آسانی سے دیتا ہے — خاص طور پر جب وہ خود فضائی طاقت کے حصول کے بڑے عزائم رکھتا ہو۔ لیکن جو لوگ پی اے ایف کی دہائیوں پر محیط تاریخ سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔
پاکستان ایئر فورس ہمیشہ اپنی صلاحیت سے کہیں بڑھ کر میدان میں اتری ہے۔ اس نے 1965 کی جنگ میں دنیا کی توجہ اس وقت حاصل کی جب چھوٹے بیڑے نے عددی طور پر بڑے بھارتی فضائی بیڑے کا مقابلہ کیا۔ اس جنگ کے کئی فضائی حربے بعد میں جنگی ہوابازی کے نصاب کا حصہ بنے۔
یہی شہرت وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی — یہاں تک کہ عرب ریاستوں کے لیے پی اے ایف پائلٹس کی پروازیں اور یومِ کپور جنگ میں اسرائیلی طیارے گرانا، خطے کی عسکری تاریخ میں شامل ہو گیا۔
امن کے دنوں میں بھی، یہ ادارہ اپنی برتری برقرار رکھتا آیا — ایسا تربیتی معیار برقرار رکھا جو غیر ملکی مبصرین، مشترکہ مشقوں اور گہرے دو طرفہ تعاون کو دعوت دیتا رہا، خاص طور پر چین کے ساتھ، جس کے ساتھ مل کر JF-17 تھنڈر تیار کیا گیا۔ یہ طیارہ اب ایک مکمل قابلِ اعتماد دفاعی قوت بن چکا ہے، جسے ایسے پی اے ایف اسکواڈرن چلاتے ہیں جو جدید ہائبرڈ وارفیئر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں، وہ بھی بجٹ بڑھائے بغیر۔
اس سے بڑھ کر، پی اے ایف کا عملی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک وضاحت اکثر ملک کے دیگر ادارہ جاتی شعبوں کی افراتفری سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ چاہے وہ سیاسی مفلوج پن ہو، معاشی جمود، یا سفارتی سمت کی کمی — پاکستان عمومی طور پر غیر مستحکم دکھائی دیتا ہے — سوائے اس وقت جب اس کا عسکری، بالخصوص فضائی، پہلو سامنے آتا ہے۔
چنانچہ جب چین جیسے ملک کی جانب سے پی اے ایف کو واضح الفاظ میں سراہا جاتا ہے — اور سیکھنے کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے — تو یہ صرف تعریفی جملہ نہیں، بلکہ ایک باوزن اعتراف ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے جسے فوجی تجزیہ کار طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں: کہ پاکستان ایئر فورس خطے کی سب سے قابل اور منظم جنگی قوتوں میں سے ایک ہے۔
یہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داریاں نہ صرف برقرار ہیں بلکہ ترقی بھی کر رہی ہیں۔ چین یہ تعریف کسی احسان کے طور پر نہیں کر رہا؛ وہ حقیقی قدر تسلیم کر رہا ہے۔ ایک ایسی ایئر فورس جو جنگی تجربہ رکھتی ہو، پیشہ ورانہ انداز میں چلائی جا رہی ہو، اور ملٹی ڈومین انٹیگریشن کی صلاحیت رکھتی ہو — چین کے لیے بھی قیمتی اثاثہ ہے، خاص طور پر جب وہ خود اپنی اگلی نسل کی عسکری تبدیلیوں کی تیاری کر رہا ہو۔
اور پاکستان کے لیے بھی، چین کے فضائی نظریات اور ٹیکنالوجیز سے گہرا انضمام، ایک ایسا برتری کا عنصر ثابت ہو سکتا ہے جو بڑے ہمسایہ بھارت کے جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں برابری کی سطح برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
مگر یہاں ایک بہت اہم نکتہ ہے، جو قابلِ توجہ ہے: پاکستان کی فوج، اور خاص طور پر ایئر فورس، اس وقت بھی سخت جنگی صلاحیت کو ترجیح دیتی رہی جب مالی وسائل محدود ہوتے جا رہے تھے اور سول ترقیاتی شعبے کو سکڑتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ وسائل کی یہ تقسیم پائیدار ہے یا نہیں — لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے عملی فوائد ضرور دیے ہیں۔
ایک ایسا ملک جو داخلی بغاوت سے برسرپیکار ہے، مالیاتی بحران کا شکار ہے، اور سیاسی انتشار میں الجھا ہوا ہے — وہاں اگر کوئی ادارہ مسلسل پیشہ ورانہ کارکردگی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد فراہم کرتا ہے، تو یہ صرف دکھاوے کی بات نہیں بلکہ قومی سودے بازی کی طاقت ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک صرف پی اے ایف کے کندھوں پر کھڑا رہ سکتا ہے۔ لیکن جب سول قیادت سفارتی یا معاشی حکمت عملی میں غیر حاضر ہو، اور پارلیمان میں قومی سلامتی جیسے معاملات زیرِ بحث نہ آئیں، تو ایسی عالمی سطح کی تعریفی جھلکیاں فوجی حلقوں سے کہیں آگے اثر رکھتی ہیں۔
یہ یاد دلاتی ہیں کہ منظم توجہ اور استقامت، نظام کے دباؤ کے باوجود کیا کچھ حاصل کر سکتی ہے۔
اس لیے ہاں،پی اے ایف واقعی اس اعتراف اور تعریف کی مستحق ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس نے حالیہ جنگ میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، بلکہ اس لیے کہ یہ سب کچھ دہائیوں پر محیط ترقی، ارتقاء اور مہارت کا نتیجہ ہے۔
اگر آج بھی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر کوئی خاموش مگر پراثر احترام باقی ہے، تو وہ نہ اس کی معیشت ہے، نہ اس کی جمہوریت، نہ اس کی سفارت کاری — بلکہ اس کے پائلٹس کی درستگی ہے۔
اور وہ آج بھی بلند پرواز ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025