4 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے لیاری میں واقع فوتان مینشن کا انہدام ایک دل دہلا دینے والا سانحہ تھا جس نے 27 قیمتی جانیں نگل لیں اور بے قابو شہری زوال کے خطرات کو بے نقاب کردیا تاہم اس سانحے کے بعد سندھ حکومت نے جس تیزرفتار اور سخت اقدامات کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تقلید مثال بن کر سامنے آیا ہے— یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ فوری اور مؤثر فیصلے مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

یہ 5 منزلہ عمارت جو کئی دہائیاں قبل غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور جسے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے طویل عرصے سے خطرناک قرار دیا جارہا تھا، ایک ایسا سانحہ تھی جو کسی بھی وقت پیش آسکتا تھا،اس کا انہدام اگرچہ انتہائی افسوسناک تھا لیکن اس نے حکومت کو فوری اقدام پر مجبور کردیا۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر جامع ریسکیو آپریشن کا حکم دیا حالانکہ تنگ گلیوں اور ہجوم کے باعث یہ کام خاصہ مشکل تھا۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہ کرنے کے عزم کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ریسکیو اہلکاروں نے تین دن تک انتھک محنت جاری رکھی۔

سندھ حکومت کے ردعمل کو منفرد بنانے والی بات اس میں ہمدردی اور جوابدہی کا امتزاج ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس معاوضے اور بے گھر ہونے والے متاثرین کے لیے تین ماہ کا کرایہ فراہم کرنے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ایسے سانحات کے انسانی پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔

اسی دوران عمارت کے انہدام کی وجوہات جاننے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام حکومت کے سنجیدہ عزائم کا عکاس ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعدد افسران کی معطلی، آٹھ اہلکاروں اور عمارت کے مالکان کی گرفتاری، اور غفلت کے خلاف سخت کارروائی، اس بات کا واضح پیغام ہے کہ حکومت کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کرے گی۔ بدانتظامی اور غیر ارادی قتل کے مقدمے کا اندراج اس عزم کو مزید تقویت دیتا ہے کہ انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

حکومتی اقدامات صرف فوری امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ سندھ بھر میں 740 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی، جن میں سے 51 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، اس وسیع بحران کی حقیقت پسندی سے آگاہی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیاری میں نو خستہ حال عمارتوں کا خالی کرایا جانا اور ایک عمارت کا انہدام حفاظتی اقدامات کی جانب جرات مندانہ پیشرفت ہے۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی سربراہی میں بحالی کمیٹی کا قیام اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کو 15 دن کے اندر اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نہ صرف فوری ضروریات پر توجہ دے رہی ہے بلکہ نظام میں موجود کرپشن سے نمٹنے کے لیے بھی جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون سازی کے لیے کمیٹی کا قیام سندھ حکومت کی جانب سے ایک پائیدار اصلاحاتی عمل کی بنیاد رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

تنقید کرنے والے یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ اقدامات فوتان مینشن کے متاثرین کے لیے بہت تاخیر سے کیے گئے، لیکن وہ کراچی جیسے پیچیدہ اور بے ترتیب شہری نظام میں حکومتی معاملات کی نزاکتوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔

سندھ حکومت نے نہ صرف فوری ردعمل دیا بلکہ تبدیلی کیلئے ایک واضح لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے شہریوں کو فلیٹ خریدنے سے قبل عمارت کی منظوری چیک کرنے کی ہدایت ایک عملی قدم ہے جو عوام کو بااختیار بنانے کی سمت میں اہم پیشرفت ہے۔ یہ ایسی حکمرانی ہے جو ہمدردی اور قانون نافذ کرنے کے درمیان توازن قائم کرتی ہے اور دوسروں کے لیے ایک قابل تقلید معیار متعین کرتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025