پاکستان

بلاول بھٹو کا بھارتی صحافی کو مدلل جواب، بھارت سمیت دنیا بھر سے پذیرائی

  • ایک صحافی کے مطابق بلاول نے سخت سوالات کو سفارتی کامیابی میں بدل دیا۔
شائع July 11, 2025 اپ ڈیٹ July 11, 2025 02:48pm

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے معروف آن لائن پلیٹ فارم دی وائر کو ایک انٹرویو دیا، جسے تجربہ کار صحافی کرن تھاپر نے لیا۔ اس انٹرویو پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر، حتیٰ کہ بھارت میں بھی بلاول کو بھرپور پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔

سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان دہشت گرد گروپوں کو سرحد پار حملوں کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہپاکستان نہ صرف سرحد پار بلکہ ملک کے اندر بھی کسی بھی دہشت گرد گروہ کو حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 90,000 سے زائد قیمتی جانیں کھو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔

بلاول کے مطابقپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی اندرونی جنگ لڑی ہے۔ ہم نے مجموعی طور پر 92,000 جانوں کی قربانی دی۔ صرف گزشتہ سال 200 سے زائد حملوں میں 1,200 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔جس رفتار سے اس سال دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، اگر یہی رفتار رہی تو یہ سال پاکستان کی تاریخ کا خونی ترین سال بن سکتا ہے۔“

اپنی والدہ، سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وہ خود بھی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پہلگام حملے کے متاثرین کا درد محسوس ہوتا ہے۔ میں ان کے خاندانوں کے دکھ اور صدمے کو اس طرح سمجھتا ہوں جس طرح شاید کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہپاکستان اس واقعے کی کسی بھی غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، کیونکہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔لیکن، بلاول کے مطابق، بھارتی حکومت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل: “بلاول نے کرن تھاپر کو آئینہ دکھایا

سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کی پُرسکون اور پُراعتماد انداز میں دیے گئے جوابات کو سراہا گیا، جبکہ کرن تھاپر کے جارحانہ رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار ندیم فاروق پراچہ نے کہا کہکرن تھاپر نے بلاول کا انٹرویو لیتے ہوئے اپنی صحافتی ساکھ کھو دی۔ ان کے پاس صرف مودی حکومت کی بنائی ہوئی زبان میں لپٹا ہوا بیانیہ تھا۔

”وہ بار بار بلاول کی بات کاٹتا رہا، اور جب بلاول پُرسکون انداز میں حقائق پر قائم رہا تو وہ غصے سے جھاگ اُگلنے لگا۔ بھارتی صحافت کے یہ ’آئیکون‘ ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پا رہے کہ فوجی اور سفارتی سطح پر ’چمکتا ہوا بھارت‘ ایک تیز اور کاری ضرب سے زیر ہو چکا ہے۔“

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ منصور احمد قریشی نے کہا کہبلاول نے کرن تھاپر کو سبق دیا کہ ہم دشمن بننے کے لیے پیدا نہیں ہوئے، آئیے اپنی آئندہ نسلوں کو ہمیشہ کے لیے جنگ میں نہ جھونکیں۔

پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے تبصرہ کیا:“بلاول بھٹو نے نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ کرن تھاپر کو ہر نکتے شکست دی۔ یہ انٹرویو نہیں، بلکہ ایک سیاسی ماسٹرکلاس تھی۔

صحافی فرزانہ شاہ نے کہا کہپی پی پی چیئرمین نے سخت سوالات کو سفارتی برتری میں بدل دیا، اور عالمی معاملات پر اپنی گرفت ثابت کی۔

یہاں تک کہ مشہور شخصیات جیسے علی ظفر نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

۔

سینیٹر شیری رحمان نے بھی بلاول کی پراعتماد اور باوقار گفتگو کو سراہا۔

۔

۔

۔

۔