اداریہ

غلط اعدادوشمار، ناکام پالیسیوں کا سبب

وفاقی وزیر خزانہ نے پرانے اور فرسودہ اعدادوشمار کی بنیاد پر اقتصادی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی پر شدید برہمی اور...
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ نے پرانے اور فرسودہ اعدادوشمار کی بنیاد پر اقتصادی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) بجا طور پر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ادارے کے ذمہ دار افسران کو ضرور جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب جی ڈی پی کی شرح نمو سے متعلق غلط اعدادوشمار پر شدید تنقید کی گئی — جس میں اس اشاعتی ادارے کی تنقید بھی شامل ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں 5 فیصد سے زائد شرح نمو کا تخمینہ پیش کیا، جو بالکل بے بنیاد اور غیر منطقی تھا، اس کے ساتھ غربت اور روزگار سے متعلق ڈیٹا بھی پرانا ہے جب کہ حکومت کے تخمینے عالمی بینک اور آزاد ماہرینِ معیشت کے اندازوں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی واضح علامات موجود ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال لائیو اسٹاک کا شعبہ ہے، جو زراعت کے تقریباً دو تہائی حصے پر مشتمل ہے۔ جب کہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے لائیو اسٹاک کی نمو 4.8 فیصد ظاہر کی ہے جو تضاد اور مبالغہ آرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم لائیو اسٹاک سے متعلق آخری جامع سروے 2005-06 میں کیا گیا تھا، نیا سروے جسے مالی سال 2021 تک مکمل کیا جانا تھا، متعدد بار التوا کا شکار ہوا اور تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ جب اس تاخیر پر سوال اٹھایا گیا تو چیف اسٹیٹسٹیشین نے پانچ سالہ تاخیر کی مضحکہ خیز وجہ سیاسی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔

اس کے بعد انہوں نے لائیو اسٹاک کی شرح نمو کو سالانہ چارہ کھپت کی بنیاد پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن سوال یہ ہے کہ جب چارے کی فصلوں کی پیداوار میں کمی آرہی ہے تو چارے کی کھپت اتنی تیزی سے کیسے بڑھ سکتی ہے؟ پی بی ایس کی ویب سائٹ پر شائع کردہ طریقۂ کار کے مطابق لائیواسٹاک کے تخمینے 2015-16 کی مستقل قیمتوں کی بنیاد پر فطری افزائش اور دوبارہ پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے جاتے ہیں،تاہم نہ تو ان کی جانب سے ظاہر کردہ نمو کی شرحیں قابل فہم ہیں اور نہ ہی پی بی ایس کی وضاحتیں تسلی بخش یا منطقی دکھائی دیتی ہیں۔

دیگر نمایاں تضادات بھی سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر صنعتی شعبے میں چھوٹے پیمانے کی صنعت (ایس ایس ایم ) کی شرح نمو 8.8 فیصد ظاہر کی گئی ہے، جب کہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم ) میں 1.5 فیصد کمی دکھائی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نچلا شعبہ — یعنی ایل ایس ایم — سکڑ رہا ہو تو ایس ایس ایم کیسے ترقی کرسکتا ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ دعویٰ کیا جائے کہ آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیاں عروج پر ہیں جبکہ گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں کمی ہورہی ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ حساب کتاب میل نہیں کھاتا۔

اسی طرح تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 6.6 فیصد ظاہر کی گئی ہے، حالانکہ اس کا بنیادی اشاریہ — مقامی سیمنٹ کی فروخت — 3 فیصد کم ہوئی ہے۔ پی بی ایس نے اس تضاد کو یہ جواز دے کر درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے بجٹ کا مکمل استعمال فرض کرلیا گیا ہے لیکن یہ مفروضہ اس وقت ناقابل یقین ہوجاتا ہے جب حکومت بنیادی مالیاتی سرپلس کے ہدف کے لیے اخراجات میں کٹوتی کررہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2025 کی پہلی نو ماہ میں پی ایس ڈی پی کا استعمال شدید حد تک کم رہا اور یہ بات پی بی ایس کو اس وقت بخوبی معلوم تھی جب اس نے شرح نمو کے اعداد و شمار جاری کیے۔

ایک اور نمایاں مثال بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی شعبے کی ہے جس میں پی بی ایس نے 29 فیصد شرح نمو ظاہر کی ہے — جس کا مطلب ہے کہ صرف آخری سہ ماہی میں اس شعبے میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔لیکن نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران بجلی کی پیداوار میں 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اسی طرح عوامی انتظامیہ اور سوشل سیکیورٹی کے شعبے میں 10 فیصد ترقی ظاہر کی گئی ہے حالانکہ حقیقی معنوں میں سرکاری اخراجات جمود کا شکار ہیں، جو اس دعوے کو بھی مشکوک بنا دیتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس جو وزارتِ منصوبہ بندی کے ماتحت ادارہ ہے نے جان بوجھ کر جی ڈی پی کی شرح نمو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اب صورتحال یہ ہے کہ خود وزیرِ خزانہ بھی اس پر سرِعام تنقید کررہے ہیں۔

پی بی ایس میں اصلاحات لانا اور قومی اعداد و شمار کی ساکھ بحال کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے۔ پی بی ایس کی خامیاں صرف جی ڈی پی کے تخمینوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر اہم اشاریوں — جیسے گھریلو آمدنی، بے روزگاری، غربت اور آبادی کے اعداد و شمار — پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں حالانکہ یہی اعدادوشمار ملک کی سماجی و اقتصادی پالیسی سازی کی بنیاد بنتے ہیں۔

پی بی ایس سنگین کیپیسٹی مسائل کا شکار ہے۔ اگرچہ یہ ادارہ نظری طور پر اسٹیٹ بینک کی طرح خودمختار حیثیت رکھتا ہے لیکن حقیقت میں اسے نہ تو درکار ادارہ جاتی گہرائی حاصل ہے اور نہ ہی آزادی۔ موجودہ چیف اسٹیٹسٹیشین خود پسندی اور دفاعی رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور واضح غلطیوں کا بھی جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم ذمہ داری ہے جسے اس قدر غیر سنجیدگی سے نہیں چلایا جاسکتا۔

حکومت کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ایسے اہل، باصلاحیت اور باکردار ماہرین کو تعینات کیا جائے جو مکمل خودمختاری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں، تاکہ عوامی اور نجی دونوں شعبوں کو درست، شفاف اور بروقت اعداد و شمار فراہم کیے جاسکیں، جو پالیسی سازی اور فیصلوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025