پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان میں کاروں کی فروخت میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین نے اس نمایاں بہتری کو مستحکم معاشی حالات، کم شرحِ سود، نئے ماڈلز کی متعارف کرائی گئی اقسام اور صارفین کے اعتماد میں بہتری سے جوڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاروں (بشمول جیپ اور پک اپس) کی مجموعی فروخت مالی سال 25 میں 1,48,023 یونٹس رہی جو مالی سال 24 میں 1,03,829 یونٹس تھی۔
صرف جون 2025 کے دوران کاروں کی فروخت 21,773 یونٹس تک پہنچ گئی جو کہ سالانہ 64 فیصد اور ماہانہ 47 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ سے تعلق رکھنے والی مایشا سہیل کے مطابق سالانہ بنیاد پر ہونے والی یہ بہتری ایک زیادہ مستحکم معاشی ماحول، نئی اقسام کی آمد، کم شرحِ سود، مہنگائی میں کمی، اور صارفین کے بہتر ہوتے اعتماد کا نتیجہ ہے۔
پاما (پی اے ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، زرعی ٹریکٹروں کے علاوہ تقریباً تمام اقسام کی گاڑیوں کی فروخت میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی۔
جیپ اور پک اپس کی فروخت میں 61 فیصد اضافہ ہوا، جو 35,820 یونٹس تک پہنچ گئی۔
ٹرک کی فروخت 103.2 فیصد اضافے سے 4,444 یونٹس تک جا پہنچی،
جب کہ بسوں کی فروخت میں 73.6 فیصد اضافہ ہوا، جو 788 یونٹس رہی۔
موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں بھی 32.1 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، اور مجموعی تعداد 15,18,752 یونٹس رہی۔
دوسری جانب فارم ٹریکٹروں کی فروخت میں شدید 36.4 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ تعداد 29,192 یونٹس تک محدود رہی۔
اس کمی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ روایتی اور ترقی پسند دونوں قسم کے کسان موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی اجناس کی کم قیمتوں کے باعث سنگین مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
آٹو سیکٹر کے ماہر محمد صابر شیخ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکاروں کو اپنی گزشتہ فصلوں کے مناسب دام نہ ملنے کے باعث ٹریکٹروں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شرحِ سود میں نمایاں کمی اور بینکوں کی آسان لیزنگ پالیسیوں نے گاڑیوں کی فروخت کو فروغ دیا ہے۔ صارفین پرانی گاڑیوں سے جان چھڑا کر نئی گاڑیوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔