پاکستان اور ترکیہ نے بدھ کے روز اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور آئندہ برسوں میں دو طرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔

یہ پیش رفت ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان اور وزیرِ دفاع یشار گولر کے اسلام آباد کے دورے کے دوران سامنے آئی جہاں انہوں نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اعلیٰ سطح اسٹریٹجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے فریم ورک کے تحت ملاقاتیں کیں۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی تجدید کی جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور ایمان پر مبنی ہیں۔

اسحاق ڈار نے دوطرفہ تعاون میں بڑھتی ہوئی رفتار کو سراہا اور تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی جیسے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے صدر رجب طیب ایردوان کی نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ کثیرالجہتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے انقرہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ دورہ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے تحت قائم مشترکہ کمیشن کے پہلے اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل رہا، جس کی مشترکہ صدارت دونوں وزرائے خارجہ نے کی۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایچ ایل ایس سی سی کے تحت قائم تمام 12 مشترکہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں نے یا تو اجلاس منعقد کیے ہیں یا جلد کرنے والے ہیں، جسے سابقہ وعدوں پر عملی پیشرفت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے آئندہ اجلاس کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جس کی مشترکہ صدارت ترک وزیر دفاع یشار گولر اور پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان کریں گے۔ یہ فورم دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور شعبہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطح روابط اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسٹریٹجک خیرسگالی کو ادارہ جاتی سطح پر ٹھوس نتائج میں بدلا جائے۔