اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈیجیٹل کرنسی کے لیے ایک تجرباتی منصوبہ (پائلٹ) شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کے ضابطہ کار کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ یہ بات گورنر جمیل احمد نے بدھ کے روز کہی ہے جب کہ ملک اپنے مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات تیز کر رہا ہے۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال کے امکانات پر غور کر رہے ہیں،کیونکہ بلاک چین پر مبنی ادائیگیوں میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام چین، بھارت، نائجیریا اور خلیجی ریاستوں کے ان اقدامات کی پیروی ہے، جہاں ریگولیٹری ادارے ڈیجیٹل کرنسیوں کو محدود تجرباتی پروگراموں کے تحت آزما رہے ہیں۔

سنگاپور میں منعقدہ روئٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ ہم اسٹیٹ بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے اپنی صلاحیت کو مستحکم کر رہے ہیں اور جلد ہی ایک پائلٹ پروگرام متعارف کرانے کی امید رکھتے ہیں۔

وہ اس موقع پر سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر پی نندلال ویرا سنگھے کے ہمراہ ایک پینل گفتگو میں شریک تھے، جہاں جنوبی ایشیا میں مانیٹری پالیسی کے چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔

جمیل احمد نے مزید کہا کہ ایک نیا قانون ورچوئل اثاثوں کے شعبے کے لائسنسنگ اور ریگولیشن کی بنیاد فراہم کرے گا اور اسٹیٹ بینک پہلے ہی کچھ ٹیکنالوجی شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔

یہ اقدام حکومت کی حمایت سے قائم کردہ پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کی کوششوں کا تسلسل ہے جسے مارچ میں ورچوئل اثاثوں کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ پی سی سی اضافی توانائی کے استعمال سے بِٹ کوائن مائننگ کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے ۔

انہوں نے بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو بطور تزویراتی مشیر مقرر کیا ہےاور ایک ریاستی سطح پر قائم بِٹ کوائن ذخیرے (ریزرو) کے قیام کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔

کونسل نے امریکہ میں قائم متعدد کرپٹو کمپنیوں سے بھی بات چیت کی ہےجن میں ٹرمپ سے وابستہ ورلڈ لبرٹی فنانشل بھی شامل ہے۔

مئی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے واضح کیا کہ ورچوئل اثاثے غیر قانونی نہیں ہیں تاہم اس نے مالیاتی اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اس وقت تک ان کے ساتھ لین دین نہ کریں جب تک باقاعدہ لائسنسنگ فریم ورک نافذ نہ ہو جائے۔

پینل گفتگو کے دوران گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اس نئے اور ابھرتے ہوئے شعبے میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔ لہٰذا ہمیں ان خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ان کا موثر انداز میں نظم و نسق تیار کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ان مواقع کو ضائع ہونے سے بھی بچانا ہے۔

مانیٹری پالیسی کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک اپنی سخت پالیسی جاری رکھے گا تاکہ مہنگائی کو درمیانی مدت کے لیے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر لایا جا سکے۔

گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے اپنی پالیسی شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم کر کے 11 فیصد کر دی ہے کیونکہ مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مئی 2023 میں 38 فیصد سے کم ہو کر جون میں 3.2 فیصد رہ گئی۔ مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی 4.5 فیصد رہی جو گزشتہ نو برسوں میں سب سے کم سطح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم اس سخت مانیٹری پالیسی کے نتائج دیکھ رہے ہیں،چاہے وہ مہنگائی میں کمی ہو یا بیرونی کھاتوں میں بہتری۔

جمیل احمد نے مزید کہا کہ پاکستان ڈالر کی تنزلی سے زیادہ متاثر نہیں ہوگا کیونکہ ملک کا زیادہ تر بیرونی قرضہ ڈالر میں ہے اور صرف 13 فیصد قرضہ یوروبانڈز یا کمرشل ذرائع پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بڑے اثر کا اندیشہ نہیں،اور مزید بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دو سال قبل 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب 14.5 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔

جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ تین سالہ، 7 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام، جو ستمبر 2027 تک جاری رہے گا، درست سمت میں گامزن ہے، اور اس کے تحت مالیاتی پالیسی، توانائی کی قیمتوں اور زرمبادلہ مارکیٹ میں اصلاحات متعارف ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ اس پروگرام کے بعد شاید ہمیں فوری طور پر کسی نئے پروگرام کی ضرورت نہ پڑے۔

پینل گفتگو کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے مستقبل میں فوجی سازوسامان کی خریداری، بالخصوص چین سے درآمدات، کے لیے کوئی مالیاتی منصوبہ بنایا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ایسے کسی منصوبے کا علم نہیں ہے، اور کہا کہ مرکزی بینک کا مینڈیٹ صرف یہ ہے کہ بینکوں کے درمیان مالیاتی مارکیٹ کو روانی سے چلایا جائے، اور اتنا زرمبادلہ دستیاب رکھا جائے کہ تجارتی فنانسنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔