پاکستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت کے طور پر پاک فضائیہ کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے امریکا کا سرکاری دورہ کیا، جو کہ گزشتہ ایک دہائی میں کسی بھی حاضر سروس سربراہِ پاک فضائیہ کا پہلا دورہ تھا۔ یہ بات فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو بتائی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کا دورہ دوطرفہ عسکری روابط میں ایک اسٹریٹجک سنگِ میل ثابت ہوا، جس کا مقصد ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنا، باہمی عملی استعداد (انٹراوپیریبلٹی) کو بڑھانا اور مشترکہ دفاعی اقدامات کو فروغ دینا تھا۔

دورے کے دوران ایئر چیف نے پینٹاگون، امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی کانگریس کے ارکان سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں۔ پینٹاگون میں اُن کی ملاقات امریکی فضائیہ کی سیکریٹری برائے بین الاقوامی امور کیلی ایل سائبولٹ اور امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل ڈیوڈ ڈبلیو آلون سے ہوئی۔

گفت و شنید کا محور افواجِ پاکستان اور امریکا کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مستحکم بنانا، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ لینا اور دونوں فضائی افواج کے درمیان عملی تعاون کو گہرا کرنا تھا۔

دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطح کے عسکری روابط کو سینئر قیادت کے باقاعدہ تبادلوں کے ذریعے جاری رکھا جائے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ میں ایئر چیف نے بیورو آف پولیٹیکل-ملٹری افیئرز اور بیورو آف ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشین افیئرز کے سینئر حکام سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی میں پاکستان کے کردار اور جنوبی و وسطی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کیا۔

کپیٹل ہل میں ایک علیحدہ اجلاس کے دوران ایئر چیف مارشل سدھو نے امریکی کانگریس کے اہم ارکان، مائیک ٹرنر، رِچ میک کورمِک اور بل ہوئیزنگا سے ملاقات کی ہے۔

ان ملاقاتوں نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ علاقائی سلامتی سے متعلق اپنا اسٹریٹجک نقطۂ نظر پیش کرے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مستقبل کے دفاعی تعاون میں ممکنہ کردار کو اجاگر کرے۔

ایئر چیف نے عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی قربانیوں کا ذکر کیا اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی حکمتِ عملی میں ارتقا پر روشنی ڈالی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان اسٹریٹجک مکالمے اور ادارہ جاتی تعاون کی نئی راہیں ہموار کرے گا، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔