رائے

سکون کی تلاش میں

جلدی میں۔ تعاقب میں۔ خود پر شک میں مبتلا۔ تکلیف میں۔ خوشی میں۔ انتشار میں۔ یہ وہ چند الفاظ ہیں جو ہماری زندگی یا...
شائع July 2, 2025 اپ ڈیٹ July 2, 2025 05:33pm

جلدی میں، تعاقب میں، خود پر شک میں مبتلا، تکلیف میں، خوشی میں، انتشار میں، یہ وہ چند الفاظ ہیں جو ہماری زندگی یا ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔زندگی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ، مصروف اور الجھی ہوئی ہو چکی ہے۔بس پچھلے پانچ سالوں پر ہی نظر ڈال لیجیے، یعنی 2020 سے 2025 تک۔ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ہو چکا ہے۔ کووِڈ نے لاکھوں زندگیاں ختم کر دیں اور اربوں لوگوں کے روزگار چھین لیے ہیں۔

دنیا بھر میں خاندان اپنے گھروں میں قید ہو کر ایک نہ ختم ہونے والے ذہنی صدمے سے گزرے۔ دو طویل سال ایک ایسے دباؤ والے ماحول میں گزرے جیسے کوئی مسلسل ”پریشر کُکر“ ہو۔

جب سب کو لگا کہ زندگی معمول پر آ رہی ہے، تب ہی جنگ کے سلسلہ وار مناظر حقیقت بن گئے۔ 2022 میں روس اور یوکرین کی جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیل غزہ میں قتلِ عام پر تُلا ہوا ہے، اور اب ایران پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ غیر صحت مند عالمی سیاست اور سخت معاشی حالات نے لوگوں کو کام، رشتوں اور زندگی کی جانب میلان یا رغبت ختم کر دی ہے۔

”سپیئن لیبز“ کی 2024 کی رپورٹ ”دی مینٹل اسٹیٹ آف دی ورلڈ“ عالمی ذہنی صحت کے بارے میں تشویشناک رجحانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ رپورٹ ”مائنڈ ہیلتھ کوشنٹ“ (ایم ایچ کیو) کا استعمال کرتی ہے تاکہ ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ ڈیٹا دنیا کے 82 ممالک سے 10 لاکھ سے زائد افراد سے لیا گیا ہے۔ نوجوان افراد (18 سے 34 سال) کے ایم ایچ کیو اسکور بڑی عمر کے افراد (55 سال سے زائد) کی نسبت خاصے کم ہیں۔ جذباتی کنٹرول، سماجی تعلقات اور ذہنی کارکردگی جیسے مسائل نوجوان نسل میں کہیں زیادہ عام ہیں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ ”ہم 2025 میں تاریخ کے ایک ایسے غیر معمولی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر نئی نوجوان نسل کی ذہنی صحت پچھلی نسل سے بدتر ہے اور یہ صلاحیت میں مسلسل کمی کا باعث بن رہا ہے، یعنی زندگی کے مسائل سے نمٹنے اور موثر طریقے سے جینے کی طاقت ختم ہوتی جا رہی ہے۔“ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ توجہ چاہتا ہے۔ یہ حل مانگتا ہے۔اگر نوجوان خود کو اور اپنی زندگی کو سمجھنے اور سنبھالنے میں ناکام ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا کا مستقبل خطرے میں ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کی بے تحاشا ہلچل نے انسان کی توجہ کو باہر کی دنیا پر حد سے زیادہ مرکوز کر دیا ہے اور اندر کی اپنی دنیا سے کاٹ دیا ہے۔

نوجوانوں میں ایک اندرونی خلا محسوس ہوتا ہے، وہ شناخت اور سمت کے بحران کا شکار ہیں۔ یہی بحران عدم اطمینان، بے چینی، رویے کی خرابی اور بے تعلقی جیسے جذبات کو جنم دیتا ہے، جو آخرکار ڈپریشن اور ذہنی خرابیوں کی مکمل تصویر بناتا ہے۔ اس بیرونی توجہ کے سب سے بڑے اسباب درج ذیل ہیں۔

  • باہر کا شور —باہر کا شور… یہ شور اندر کی آواز کو دبا دیتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال صرف بری خبروں کی گونج اور بڑھتی ہوئی ہنگامہ خیزی کے سال بنے۔دن رات بجتے رہنے والے اس بحران کے الارم نے اعصاب کو تھکا ڈالا ہے۔ دنیا بھر میں خبریں ایسی لگتی ہیں جیسے قیامت کی پیش گوئی کر رہی ہوں۔ کووڈ نے انسان کو قید اور بےچین کر دیا۔ اور کووڈ کے بعد مالی اور عالمی دباؤ نے لوگوں کو مسلسل پریشان، الجھا ہوا اور ناراض بنا دیا ہے۔ ہر طرف کی گفتگو اور مکالمے زندگی کو صرف ”چلانے“ پر مرکوز ہیں، نہ کہ اس کی اصل معنویت تلاش کرنے پر۔ ڈگری کے پیچھے بھاگنے والے طالب علم الجھن میں ہیں کہ اصل میں کرنا کیا ہے۔ سبھی ”مصنوعی ذہانت“ کی بات کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی نوجوانوں کی ”حقیقی ذہانت“ کی بات نہیں کرتا۔ مشینوں کے سیکھنے کی بات ہو رہی ہے، مگر نوجوان کیا سیکھنا چاہتے ہیں،اس پر کوئی توجہ نہیں۔ ایسا کرتے کرتے ایک ایسی نسل پیدا ہو گئی ہے جسے ”ناممکن نسل“ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنریشن زی (Z) کو ”نا اہل“، ”بیگانہ“، اور ”ناموزوں“ جیسے القابات دیے جا رہے ہیں۔ جب وہ یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو تعلیم انہیں بےحد بور لگتی ہے، جب کام پر جاتے ہیں تو وہ کام بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اس ساری ”باہر کی دنیا“ کی سرگرمیوں میں اصل انسان کہیں گم ہو گیا ہے۔

  • اندرونی کٹاؤ — چاہے نوجوان ہوں یا عمر رسیدہ،اکثر لوگ اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنی اصل ذات کو دریافت نہیں کر پاتے۔ ”خود شناسی“ کا بنیادی سفر،اب ایک دھند میں لپٹ چکا ہے، ایک ایسی دھند جو خود کو پہچاننے میں ناکامی اور دوسروں جیسا بننے کی خواہش سے پیدا ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی زندگی بظاہر چمکدار ہے، مگر حقیقت سے کوسوں دور۔ ”سیلفی“ آج کی سب سے دھوکہ دینے والی حقیقت بن چکی ہے۔ ڈی پی پروفائلز کا اصل انسان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خوبصورت، خوش، اور مکمل نظر آنے کی دوڑ (ظاہر ہے فلٹرز کی مدد سے)بے شمار لوگوں میں شدید عدم اطمینان پیدا کرتی ہے۔ جیسے جیسے لوگ اپنی اصل زندگی سے زیادہ وقت مجازی (ورچوئل) دنیا میں گزارنے لگے، ویسے ویسے اس فرق نے شدت اختیار کر لی، کہ وہ اصل میں کیا ہیں اور انہیں کیا ہونا چاہیے۔ یہ لوگ مسلسل توثیق (ویلیڈیشن)، موازنہ (کیمپیریزن) اور رہنمائی (ڈائریکشن) کے متلاشی رہتے ہیں۔ باہر کی دنیا ”خوشحال جوڑا“، ”کامیاب پروفیشنل“ اور ”خوابوں جیسا چہرہ“ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ ان کی تصویریں ہزاروں لائکس اور سیکڑوں فالوورز حاصل کرتی ہیں، اور عام لوگ جو اپنی روزمرہ زندگی اور تعلقات کی جدوجہد میں الجھے ہیں، ان کی زندگی ان کے مقابلے میں پھیکی لگنے لگتی ہے۔ اپنے ”اندر کے انسان“ کو جاننے کے لیے نہ وقت بچتا ہے،نہ توجہ۔

کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

  • اپنی خامیوں کو گلے لگائیں، کمال پسندی ایک فریب ہے، ایک بوجھ ہے۔ ”کامل زندگی“ کا کوئی وجود نہیں، اور کامل بننے کی دوڑ سب سے جلدی انسان کو بے سکون اور مایوس کر دیتی ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسی دنیا ہے جو جھوٹی نمائندگیوں سے بھری ہوئی ہے۔ دوسروں کو دیکھنا چھوڑیں،اور خود کو دیکھنا شروع کریں۔ ہماری خامیاں ہی ہمیں انسان بناتی ہیں،اور ہماری نارسائیاں ہی ہمیں منفرد بناتی ہیں۔ ان خوبصورت، ہنستے، خوش دکھتے چہروں کے پیچھے وہی اندھیرے چھپے ہوتے ہیںجو ہم سب کے اندر ہوتے ہیں۔ اپنے ڈر، اپنی ناکامیاں تسلیم کریں،اور سمجھیں کہ یہ سب ”عام“ ہے۔ خود کو قبول کرنا شروع کریں، بجائے اس کے کہ خود کو دوسروں سے موازنہ کرتے رہیں، یا پچھتاوے، شرمندگی اور یادوں کا بوجھ ڈھوتے رہیں۔ ”کاش…“ کی بیماری سے نجات پائیں۔دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔اور خود کو بھی۔

  • اپنے اندر کا روشنی کا بٹن تلاش کریں، زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا مقصد، یا جذبہ، تلاش نہیں کر پاتے۔ سوچیں: ایسا کیا ہے جس میں وقت کا ہوش نہیں رہتا؟ کیا وہ مصوری ہے؟ لکھنا؟ دوسروں کی مدد کرنا؟ کھانا پکانا؟ یہی اندرونی سفر ہے،ایک دریافت، جس میں آپ کو اپنے دل کی روشنی تلاش کرنی ہے۔ ایسا کیا ہے جو دل کو مکمل کر دے؟ کیا ہے جو آپ کے چہرے پر روشنی اور آنکھوں میں چمک لے آئے؟

  • بانٹیں اور تشکیل دیں، خود شناسی کا سفر اندر سے شروع ہوتا ہے، لیکن جو کچھ آپ نے سیکھا ہے،اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنا بھی ضروری ہے۔ اپنے قریبی دوستوں سے بات کریں۔ کسی رہنما یا مشیر سے رابطہ کریں۔ ضرورت ہو تو کسی ماہرِ نفسیات یا تھراپسٹ سے مدد لیں۔ جس طرف جانا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ایک لچکدار منصوبہ بنائیں۔ خامیاں متوقع رکھیں۔ خود کو کڑے معیاروں کا پابند نہ بنائیں۔ بس مسلسل چلتے رہیں۔

جھوٹی زندگی گزارنا، اصل زندگی کو مار دیتا ہے۔ جب زندگی باہر کی دنیا کے دباؤ سے چلتی ہے، تو اندر سے ایک خلا جنم لیتا ہے، ایک ایسا احساس کہ جیسے ہم ”بند“ ہو چکے ہوں۔ یہی وہ حالت ہے جو انسان کو مسلسل دوسروں کی داد و تحسین (ویلیڈیشن) کی تلاش میں رکھتی ہے اور یہی جذباتی انتشار کی اصل جڑ ہے۔

زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو اصلیت کے ساتھ جئیں۔ یعنی یہ جانیں کہ آپ کے لیے واقعی کیا معنی رکھتا ہے اور اپنی زندگی کو انہی اقدار کے مطابق گزاریں۔ یہ آپ کو اندرونی طور پر طاقتور بناتا ہے اور آپ کی زندگی کو ایک مطلب دیتا ہے۔ اس طرح آپ بلا مقصد اور بے معنی زندگی گزارنے کی کوشش سے آزاد ہو جاتے ہیں۔اور پھر کوشش کریں کہ ایک اور شخص کو بھی اپنی زندگی کے مطلب کو دریافت کرنے میں مدد دیں۔ جیسا کہ پابلو پکاسو نے کہا ہے،”زندگی کا مطلب ہے اپنی خاص صلاحیت تلاش کرنا اور زندگی کا مقصد ہے اسے دوسروں کو دینا۔“

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025