اسٹاک ایکسچینج: نئے مالی سال کا مثبت آغاز، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند
- مالی سال 26 کے بجٹ کی وضاحت سے مارکیٹ میں تیزی آئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے مالی سال 2025-26 کا آغاز پر اعتماد اور مثبت رجحان کے ساتھ کیا جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس منگل کو نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
کاروبار کے دوران مثبت رجحان واضح رہا جس نے انڈیکس کو دن کے دوران بلند ترین سطح تک پہنچایا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 128,199.42 پوائنٹس پر بند ہوا جو 2,572.11 پوائنٹس یا 2.05 فیصد کا اضافہ ہے۔
اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جن میں گاڑیوں کی اسمبلنگ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں اور بجلی کی پیداوار شامل ہیں۔ نمایاں حصص والے اسٹاک جیسے ماری، حبکو،ایم ای بی ایل،ایم سی بی،پی او ایل، پی آر ایل اور این بی پی بھی مثبت زون میں رہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی یہ تیزی بجٹ کی وضاحت اور سود کی شرح میں کمی کی وجہ سے آئی ہے، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کو شیئر مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے۔
اسی دوران جے ایس گلوبل کے تحقیقاتی سربراہ وقاص غنی نے اس تیزی کی وجہ بہتر جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مضبوط ہوتے ہوئے معاشی ماحول کو قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کی ریکارڈ کارکردگی کی تعریف
وزیراعظم شہباز شریف نے ریکارڈ کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی اس بات کی عکاسی ہے کہ کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا ملک کی معیشت اور حکومتی پالیسیوں پر اعتماد روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال میں حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ملک کی معیشت نے بتدریج اچھا بحالی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیا مالی سال ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے سفر میں ایک اور سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مالی سال 25-2024 کے آخری دن ایک بہتر انداز میں کاروبار کا اختتام کیا، جس میں مضبوط مالی سال کے آخر کے فلو، فعال ادارہ جاتی شرکت اور ایک اہم بیرونی مالی معاونت کی ترقی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔
سیشن کے اختتام پر، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,248.25 پوائنٹس، یعنی ایک فیصد کا اضافہ ہوا، اور ایک نیے ریکارڈ 125,627.31 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، ایشیائی شیئرز منگل کو تھوڑی بہت تیزی کے ساتھ اوپر بڑھے اور ڈالر کئی سالوں کی کم ترین سطح پر رہا کیونکہ مارکیٹس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تاریخی ٹیکس اور اخراجات کے قانون پر ہونے والی ووٹنگ کا انتظار کر رہی تھیں۔
عالمی شیئرز نے پیر کو تجارتی امیدوں کے درمیان ایک دن کے ریکارڈ کو عبور کیا، لیکن سینیٹ میں بل پر طویل بحث کی وجہ سے جو کہ امریکہ کے قرض میں 3.3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرے گا، سرمایہ کاروں کے جذبات متاثر ہوئے۔
جاپان کا نِکی انڈیکس 1.1 فیصد تک گر گیا جب کہ ین کی قیمت بڑھی۔ تیل دوسرے مسلسل سیشن میں نیچے آیا، اور سونا بڑھا۔
امریکی ٹیکس کٹوتی اور اخراجات کے بل پر پیر کو بحث جاری تھی، اور توقع تھی کہ منگل کو ایشیائی ٹریڈنگ دن میں اس پر ووٹ ہو گا۔ اس بل کی منظوری کی کوشش کی جا رہی تھی کہ 4 جولائی کی تعطیلات سے پہلے اسے منظور کر لیا جائے۔ عالمی تجارتی مذاکرات کار ٹرمپ کے ٹیرف کی ڈیڈ لائنز سے پہلے معاہدے مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ سرمایہ کار کل ہونے والے امریکی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 0.5 فیصد اوپر تھا، جنوبی کوریا کے کوسپِی انڈیکس کی قیادت کے ساتھ، جو 1.8 فیصد بڑھا۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 1,032.76 ملین شیئرز رہ گیا جو گزشتہ کاروباری دن میں 1,144.55 ملین تھا۔
تاہم حصص کی مالیت بڑھ کر 44.01 ارب روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سیشن میں 35.24 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے کوہِ نور اسپننگ سرفہرست رہی، جس کے 84.99 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد بینک آف پنجاب 73.83 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور سوئی سدرن گیس 69.17 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
منگل کو مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 233 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 206 کے شیئرز کی قیمت میں کمی جبکہ 40 کمپنیوں کے شیئرز بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔