بھارت علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے والی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، اسحاق ڈار
- ڈپٹی وزیراعظم کا انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی 52ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ مخاصمانہ اور گمراہ کن پالیسیوں پر نظرثانی کرے جو جنوبی ایشیا میں امن کے لیے خطرہ اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) کے 52 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری تبدیلیوں کے درمیان پاکستان ایک بااعتماد اور خودمختار قوم کے طور پر مستقبل کی جانب پیش رفت کر رہا ہے—اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پُرعزم انداز میں دفاع کرتے ہوئے، اور عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن تمام دوست ممالک، بشمول امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی کی کوششوں کی قدر کرتا ہے جن کی مدد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکا اور جنگ بندی ممکن ہوئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی کو مضبوط بنایا جائے، ایک مؤثر بحران مینجمنٹ کا نظام تشکیل دیا جائے، اور ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں جو علاقائی سلامتی کے استحکام میں مددگار ثابت ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ چار روزہ جنگ کا نتیجہ ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ بھارت پاکستان کو نہ تو ڈرا سکتا ہے اور نہ ہی دباؤ میں لا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ اپنی موجودہ مغرور اور گمراہ کن پالیسیوں پر نظرثانی کرے جو خطے میں امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور سلامتی کو کمزور کر رہی ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اور اس کے وسیع تر ہمسایہ خطے میں علاقائی تعاون کے نئے تصور کو اپنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بالادستی اور تسلط کے منفی رجحانات نے اس عمل کو طویل عرصے سے روکے رکھا ہے اور سارک کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
ہمارے خطے کو اب یکجہتی، باہمی مفاد پر مبنی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے مثبت جذبے کی ضرورت ہے۔
افغانستان کے حوالے سے ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے پاک-افغان تعلقات کو مثبت سمت میں استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے سفارتی سطح کو سفیروں کی سطح تک اپ گریڈ کرنے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر عبوری افغان حکومت مکمل خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ تعاون کرے تو ہماری اقتصادی شراکت داری، علاقائی انضمام اور رابطے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بے پناہ ثمرات ہوں گے۔
اس سے نہ صرف افغان عوام کو زبردست فائدہ ہوگا بلکہ مشترکہ خوشحالی کے فوائد وسط ایشیا اور اس سے آگے تک پھیلیں گے۔
واضح رہے کہ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) کا قیام 1973 میں عمل میں آیا تھا اور یہ پاکستان کے نمایاں اسٹریٹجک تھنک ٹینکس میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ ادارہ معیاری تحقیق، فکری قیادت کے فروغ اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان جامع مکالمے کے لیے جانا جاتا ہے۔