دریائے سوات میں سیلابی ریلہ متعدد سیاحوں کو بہا لے گیا، 9 افراد جاں بحق، 14 لاپتہ
ریسکیو حکام کے مطابق جمعہ کے روز سوات کے علاقے فضاگٹ میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے باعث کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 14 لاپتہ ہو گئے۔
آج نیوز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دریائے سوات میں پانی کی سطح میں اچانک خطرناک حد تک اضافہ ہوا، جس نے سیاحوں اور مقامی افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ مجموعی طور پر 80 افراد اس حادثے سے متاثر ہوئے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے پاک فوج کے اہلکاروں کی مدد سے فوری کارروائی کرتے ہوئے 57 افراد کو بحفاظت نکال لیا جبکہ اب تک 9 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتہ 14 افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم تیز بہاؤ اور دشوار گزار علاقے کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ فضاگٹ ہے، جہاں 18 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، جن میں وہ سیاح بھی شامل ہیں جو ناشتے کے بعد دریا کے کنارے سیر کے لیے آئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر سوات محمود شہزاد نے تصدیق کی ہے کہ پنجاب اور مردان سے تعلق رکھنے والے دو خاندان ، جو تصاویر لینے کے لیے دریا میں داخل ہوئے تھے، بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور شناخت کا عمل لاشوں کے ملنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والوں کی اکثریت سیاحوں پر مشتمل تھی۔ مقامی انتظامیہ نے واقعے کے بعد عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مون سون بارشوں کے پیشِ نظر دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں کا رخ نہ کریں۔
واقعے کے تناظر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے فوری طور پر فلڈ ریسپانس سیل قائم کرنے کا حکم دیا اور تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ کے ترجمان فراز مغل نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں سے گریز کریں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ملک بھر میں مون سون کے پہلے سلسلے کے دوران اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد اور ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔