علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (اے اے ٹی ایم) نے حصص کی قیمت میں غیر معمولی اضافے سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے بیان میں کمپنی نے کہا کہ ایسی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور مارچ 2025 کی ڈائریکٹرز رپورٹ میں کمپنی کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبے کے سوا کوئی نئی معلومات موجود نہیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ اس کی ذیلی کمپنی، فضل سولر انرجی، نے اپنا سولر منصوبہ شروع کردیا ہے اور اہم مشینری اور سولر پینلز کی تنصیب جاری ہے۔
سابق ٹیکسٹائل یونٹ جو اب لاجسٹک سروس فراہم کنندہ بن چکا ہے نے کہا کہانتظامیہ کو یقین ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی سولر پلانٹ جولائی 2025 کے اوائل میں فعال ہو جائے گا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اے اے ٹی ایم کے حصص کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 70 روپے سے زائد ہوچکی ہے اور اس رپورٹ کے فائل کیے جانے کے وقت یہ قیمت تقریباً 72 روپے فی شیئر تھی۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کا قیام 1969 میں ایک ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹ کے طور پر عمل میں آیا تھا۔
تاہم 2011 میں کمپنی کی انتظامیہ نے ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹ سے علیحدگی اختیار کر کے ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔