پاکستان نے ہفتہ کے روز بھارت کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کر دیا کہ 10 مئی کو بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان، سفیر شفقت علی خان نے بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حوالے سے جنگ بندی کی درخواست سے متعلق خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم/ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے انٹرویوز اور بیانات میں واضح طور پر بتایا ہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا، جو کہ اس کے اپنے دفاع کا حق تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں دوستانہ ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔

سفیر شفقت علی خان نے بتایا کہ واقعات کی ترتیب سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی بلکہ اسے اس وقت قبول کیا جب 10 مئی 2025 کی صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نائب وزیراعظم/ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو فون کر کے بتایا کہ بھارت جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ پاکستان بھی آمادہ ہو۔

ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے اس پیشکش کو قبول کرنے کی تصدیق کی، جس کے بعد تقریباً 9 بجے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی نائب وزیراعظم کو فون کیا اور بھارت کی طرف سے یہی بات دہراتے ہوئے پاکستان کی جانب سے توثیق کی درخواست کی، جیسا کہ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے کی تھی۔

دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان نے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی بلکہ دوست ممالک کی ثالثی سے اسے قبول کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025