حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطرے سے بچنے والے سرمایہ کاروں کو انعام دینا نہیں چاہتی۔ وہ چاہتی ہے کہ خطرہ مول لینے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ مگر اس نکتہ کو ثابت کرنے کی کوشش میں، اس نے بنیادی منطق کو ہی الٹا کر رکھ دیا ہے۔

پیش کیے گئے بجٹ کے تحت، بینک ڈپازٹس اور دیگر مقررہ آمدنی والے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن پر اس سے زیادہ ٹیکس لگے گا جتنا اسٹاک مارکیٹ میں حصص بیچ کر حاصل ہونے والے منافع (کیپیٹل گین) پر لگتا ہے۔ یعنی اگر آپ محتاط رہیں اور اپنا پیسہ بینک میں رکھیں، تو آپ زیادہ ٹیکس ادا کریں گے۔ اگر آپ اسٹاک مارکیٹ میں لگائیں، تو کم ٹیکس دینا پڑے گا۔ یہ کیپٹل مارکیٹ کی اصلاح نہیں، بلکہ ایک یک طرفہ ٹیکس پالیسی ہے جسے اصلاح کے لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر لوگ اسٹاک مارکیٹ سے امیر ہونے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وہ صرف اپنی بچت کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں — ایک ایسی معیشت میں جو ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف لڑکھڑاتی رہتی ہے۔ ان کے لیے مقررہ آمدنی میں سرمایہ کاری کا مطلب ”خطرے سے بچاؤ“ نہیں، بلکہ عقلمندی اور حقیقت پسندی ہے۔ مگر اب پالیسی سازوں کی طرف سے پیغام صاف ہے: اگر آپ استحکام چاہتے ہیں، تو اس کی قیمت ٹیکس کی صورت میں چکانی ہو گی۔

ادارہ جاتی سرمایہ کاروں پر اس فیصلے کا اثر واضح ہے۔ میوچل فنڈز اور دیگر اثاثہ منیجرز کو اب حصص بازار کی طرف دھکیلا جائے گا، نہ اس لیے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ پر یقین رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں مقررہ آمدنی سے باہر کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً اسٹاک مارکیٹ ایک ایسی تبدیلی کی بنیاد پر بلند ہو گی جو دراصل اثاثہ جات کی تقسیم میں زبردستی کی گئی تبدیلی ہے۔ اور جیسے ہی مارکیٹ انڈیکس اچھا نظر آنے لگے گا، حکومت کو وہی مل جائے گا جو وہ چاہتی ہے: ایک چمکتا دمکتا، اوپر جاتا ہوا گراف، جس کا کریڈٹ وہ لے سکے۔

یہ معاملہ سرمایہ کاروں کے رویے کا نہیں، بلکہ نظر آنے والی تصویر (آپٹکس) کا ہے۔ اب اُبھرتا ہوا کے ایس ای-100 انڈیکس ہی اقتصادی بحالی کی علامت بن جائے گا — قطع نظر اس کے کہ برآمدات، سرمایہ کاری یا روزگار کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

دوسری طرف، چھوٹے بچت کنندگان کو اس فیصلے کی قیمت چکانی ہو گی۔ حقیقی معیشت بدستور مشکلات کا شکار رہے گی۔ اور ایک بار پھر، ہم ایسی پالیسیوں کے ساتھ رہ جائیں گے جو حقیقت کی بجائے محض دکھاوے کو انعام دیتی ہیں۔