پی آئی اے نجکاری: فوجی فرٹیلائزر، ایئر بلیو، 3 کنسورشیم نے اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن جمع کرادیے
- نجکاری کمیشن پری کوالیفکیشن معیار کے تحت پارٹیوں کےاسٹیٹمنٹس آف کوالیفیکیشن کا جائزہ لے گا
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حکومتی اقدام کے تحت فوجی فرٹیلائزر، ایئر بلیو، اور 3 کنسورشیم نے قومی ایئر لائن خریدنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اسٹیٹمنٹس آف کوالیفیکیشن جمع کرا دیے ہیں۔
یہ پیشرفت جمعرات کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کے 51 سے 100 فیصد حصص حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن جمع کرانے کی آخری تاریخ ختم ہونے پر سامنے آئی ہے۔
نجکاری کمیشن کو دلچسپی رکھنے والی پارٹیز سے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی) موصول ہوا ہے جن میں سے پانچ نے مقررہ وقت پر اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن جمع کرایا ہے۔
دلچسپی رکھنے والی پانچ پارٹیز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم
2۔ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم
3۔ فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ
4۔ ایئر بلو
آگمنٹ سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، سرین ایئر (پرائیویٹ) لمیٹڈ، بحریہ فاؤنڈیشن، میگا سی اینڈ ایس ہولڈنگ، ایکویٹاس کیپیٹل ایل ایل سی پر مشتمل کنسورشیم
نجکاری کمیشن کے مطابق فریقین کی جانب سے جمع کرائی گئے اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن کا نجکاری کمیشن کی طرف سے پری کوالیفکیشن معیار کے تحت جائزہ لیا جائے گا اور جو فریق اہل ثابت ہوں گے وہ اگلے مرحلے میں جائیں گے جہاں انہیں ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ خریدنے سے متعلق ڈو ڈیلیجنس کر سکیں۔
حکومت نے رواں سال اپریل میں ایکسپریشن آف انٹرسٹ دوبارہ طلب کرنے کے ساتھ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کیا جو قومی ایئرلائن میں اپنے حصص فروخت کرنے کی نئی کوشش ہے۔
ابتدائی طور پر ایکسپریشن آف انٹرسٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون مقرر کی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے 19 جون تک بڑھا دیا گیا جبکہ تمام شرائط و ضوابط برقرار رکھے گئے۔
حکومت خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن میں 51 سے 100 فیصد حصہ فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور ان ریاستی اداروں میں اصلاحات کی جا سکیں جو خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں — جیسا کہ یہ سب کچھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت طے شدہ ہے۔
گزشتہ سال حکومت پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش میں ناکام رہی کیونکہ اسے صرف ایک پیشکش موصول ہوئی جو 300 ملین ڈالر سے زائد کی متوقع قیمت سے کہیں کم تھی۔
بلو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے نجکاری کمیشن کی کم از کم توقع 85.03 ارب روپے پر پورا اترنے سے انکار کرتے ہوئے پی آئی اے کے 60 فیصد حصے کے لیے اپنی اصل پیشکش 10 ارب روپے پر قائم رہا جس کے باعث قومی ایئرلائن کی نجکاری کا بولی کا عمل ختم ہو گیا۔
ریاستی اداروں کی نجکاری کے اپنے منصوبے کے تحت حکومت مالی سال 2024-25 کے دوران نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کا معمولی ہدف — 30 ارب روپے — بھی حاصل نہ کر سکی۔