دنیا

غزہ پر بمباری، اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 24 گھنٹوں میں 140 فلسطینی شہید

غزہ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں کم از کم 140 فلسطینی شہید ہوگئے۔ یہ...
شائع اپ ڈیٹ

غزہ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں کم از کم 140 فلسطینی شہید ہوگئے۔ یہ بات شعبہ صحت کے حکام نے بتائی ہے۔ غزہ میں بعض فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فضائی جنگ کی وجہ سے ان کی حالتِ زار کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق مجموعی تعداد میں گزشتہ روز اسرائیلی فائرنگ اور فضائی حملوں میں شہید ہونے والے 40 افراد کی شہادتیں بھی شامل ہیں۔ ان میں وہ فلسطینی بھی شامل ہیں جو امداد کے حصول کی کوشش میں شہید ہوئے — ایک سلسلہ جو اس وقت سے جاری ہے جب تین ہفتے قبل اسرائیل نے علاقے پر عائد مکمل ناکہ بندی کو جزوی طور پر ختم کیا تھا۔

طبی ذرائع کے مطابق مغازی پناہ گزین کیمپ، زیتون محلہ اور غزہ سٹی میں گھروں پر الگ الگ فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد شہید ہوئے جبکہ جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک کیمپ پر حملے میں مزید 5 افراد مارے گئے۔

طبی عملے نے بتایا کہ مرکز غزہ میں صلاح الدین روڈ پر اقوام متحدہ کے لائے گئے امدادی ٹرکوں کا انتظار کرنے والے بے گھر فلسطینیوں کے ہجوم پر اسرائیلی فائرنگ سے مزید 14 افراد شہید ہوئے۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں خوراک کے منتظر افراد کی اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیگر حملوں کے بارے میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ممکنہ احتیاطی تدابیر“ اختیار کی گئی ہیں۔

منگل کو غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ مئی کے آخر میں امدادی ترسیلات دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے 397 فلسطینی شہید اور 3,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ میں کچھ افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل-حماس جنگ میں ہونے والی تازہ شدت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کیونکہ عالمی توجہ اب پانچ روز پرانی ایران-اسرائیل جنگ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

غزہ سٹی کے رہائشی عادل نے رائٹرز سے چیٹ ایپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں لوگ دن رات مارے جا رہے ہیں، لیکن توجہ ایران اور اسرائیل کی جنگ پر چلی گئی ہے۔ آج کل غزہ کی خبریں کم ہی آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا جو اسرائیلی بمباری سے نہیں مرتا وہ بھوک سے مر جاتا ہے۔ لوگ روزانہ خوراک کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں، اور انہیں مار دیا جاتا ہے۔ ان کے خون سے وہ آٹے کے تھیلے رنگین ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اپنی جیت سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

’ہمیں بھلا دیا گیا‘

اسرائیل اب امداد کا بڑا حصہ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ نئی تنظیم ”غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن“ کے ذریعے غزہ میں منتقل کر رہا ہے جو امریکی نجی سیکیورٹی اور لاجسٹک کمپنیوں کی مدد سے کام کرتی ہے اور ان علاقوں میں امدادی اشیاء تقسیم کرتی ہے جو اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ، جہاں 2 ملین سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں، میں امداد کی ترسیل جاری رکھے گا لیکن یہ بھی یقینی بنائے گا کہ یہ امداد حماس کے ہاتھ نہ لگے۔حماس امداد ضبط کرنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے عوام کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

بدھ کے روز ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے فِلپ لازارینی، اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی اونرا کے سربراہ نے کہا کہ امداد کی تقسیم کا موجودہ نظام ایک شرمناک ناکامی ہے اور ہماری اجتماعی ضمیر پر داغ ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، امریکی اتحادی اسرائیل کے غزہ پر جاری فوجی حملوں میں اب تک تقریباً 55,600 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، اور شدید غذائی بحران نے جنم لیا ہے۔

اس فوجی کارروائی کے باعث اسرائیل پر نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جن کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔

غزہ میں فلسطینی اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فضائی جنگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران طویل عرصے سے حماس کا بڑا حمایتی رہا ہے۔

شمالی غزہ سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ شعبان عابد، جو پانچ بچوں کے والد ہیں، نے کہا کہ ہم شاید ایران کے راکٹوں سے اسرائیل کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوں، لیکن دن کے اختتام پر، اس جنگ کا ہر ایک دن درجنوں معصوم جانوں کی قیمت پر گزرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف یہ امید کرتے ہیں کہ کوئی جامع حل نکلے تاکہ غزہ کی جنگ بھی ختم ہو سکے۔ ہمیں بھلا دیا گیا ہے۔