حکومت نے مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے 2 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے کی کوششیں شروع کر دیں،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران 1.1 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ترقیاتی بجٹ کا صرف 40 فیصد استعمال کر سکی ہے۔

کمیٹی، جس کی صدارت سید نوید قمر نے کی، کو بتایا گیا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا بجٹ دوسری مرتبہ کم کر کے 967 ارب روپے کر دیا گیا، تاہم یہ ہدف بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ سیکریٹری خزانہ نے آگاہ کیا کہ اب تک صرف 662 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آخری مہینے میں فنڈز کو ’اسٹرائیڈ انجیکشن‘ دیا گیا، جس سے جی ڈی پی سمیت دیگر معاشی اعشاریے متاثر ہو سکتے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت مالی سال کے آخری سہ ماہی میں تیزی سے فنڈز کے حصول کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت نے دوبارہ کمرشل مارکیٹ سے رجوع کیا ہے اور تقریباً 2 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے کی سنڈیکیشن جاری ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر 11 سے 12 ارب ڈالر سے بڑھا کر 14 ارب ڈالر کیے جانے کی امید ہے۔

بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں مسلح افواج کے افسران کو 50 فیصد اور جے سی اوز/سپاہیوں کو 20 فیصد خصوصی ریلیف الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے پالیسی ریٹ کے بارے میں امید ظاہر کی کہ سال کے اختتام تک یہ سنگل ڈیجٹ میں آ سکتا ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کے تحت نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ آئندہ مالی سال کے لیے 2,400 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو موجودہ سال کے 2,500 ارب سے کم ہے۔

پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کے لیے آئندہ سال کا تخمینہ 1,468 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کہ رواں سال کے 1,281 ارب سے زیادہ ہے۔ حکومت نے پی ڈی ایل پر کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی، تاہم 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی کے اضافے کے بعد اسے 80 سے 80.5 روپے فی لیٹر تک محدود رکھنے کا ارادہ ہے۔

عمر ایوب خان نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی 2.1 ارب لیٹر اسمگلنگ سے قومی خزانے کو تقریباً 145 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جس کے لیے ایف بی آر کو نفاذ کو مؤثر بنانا ہوگا۔

سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے لیے مالی خسارے کی فنانسنگ 6,501 ارب روپے رکھی گئی ہے، جو موجودہ سال کے 8,500 ارب سے کم ہے۔ بیرونی قرضوں کا خالص تخمینہ 106 ارب روپے ہے، جب کہ اندرونی فنانسنگ کا تخمینہ 6,308 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے میڈیا میں جاری ’منی بجٹ‘ کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے کم از کم ٹیکس میں کمی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو 716 ارب روپے تک توسیع دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف 312 ارب روپے نئے ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے اور عالمی اداروں کو مؤثر ٹیکس نفاذ کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے تقریباً 7,000 ٹیرف لائنز میں سے 4,000 پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی ہے جبکہ 2,700 لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں بھی کمی کی گئی ہے، جن میں 2,000 سے زائد خام مال اور برآمدی صنعتوں کے انٹرمیڈیٹ گڈز شامل ہیں۔

یہ ٹیرف اصلاحات صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا حصہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سیکریٹری خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صرف 1.9 فیصد اضافے کو محتاط مالی نظم و ضبط کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ سبسڈی اور قرضوں کی ادائیگی میں کمی کی گئی ہے، تاہم قومی ترجیحات پر اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

نجکاری سے 87 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جب کہ رواں سال کے لیے رکھے گئے 30 ارب روپے کے ہدف میں ناکامی کی وجہ پی آئی اے اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی کم بولیاں ہیں۔ پی آئی اے اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری آئندہ سال مکمل کی جائے گی، جب کہ بجلی کی تقسیم اور پیداوار کی کمپنیوں کی نجکاری بھی جاری رہے گی۔

آئندہ سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد اور مالی خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.9 فیصد (5,037 ارب روپے) مقرر کیا گیا ہے۔ پرائمری سرپلس کا ہدف 2.4 فیصد رکھا گیا ہے۔

ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 14,131 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو کہ موجودہ سال کے 12,970 ارب روپے سے تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 5,147 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

کمیٹی نے ٹیکس جی ڈی پی تناسب، سولر پینلز اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس، کاربن لیوی، ای وی، ایس ایم ایز، کسٹمز کی ناکامی اور اسمگلنگ، خواتین و صحت پر مختص فنڈز اور معاشی مندی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، موسمیاتی تبدیلی، سماجی تحفظ، اور صنعتی شعبے میں اصلاحات پر زور دیا گیا۔