اوائل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے اپنے پارٹنر گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے ساتھ مل کر سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع ایک تحقیقی کنویں ”فقیر-1“ میں قدرتی گیس اور کنڈینسیٹ کے ذخائر دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جمعرات کے روز بھیجے گئے اپنے اعلامیے میں او جی ڈی سی ایل نے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہہمیں خوشی ہے کہ ہم ضلع خیرپور، سندھ میں واقع بِترسِم ایکسپلوریشن لائسنس کے اندر ققیر-1 نامی تحقیقی کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

یہ کنواں او جی ڈی سی ایل چلا رہی ہے جس کا اس میں 95 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے، جب کہ جی ایچ پی ایل کے پاس بقیہ 5 فیصد حصہ ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق، فقیر-1 کو 31 دسمبر 2024 کو ایک تحقیقی کنویں کے طور پر کھودا گیا تھا، اور اسے سیمبر فارمیشن میں 4,185 میٹر کی گہرائی تک ڈرل کیا گیا۔ کنویں کو کمپنی کی اندرونی مہارت کے ساتھ ساتھ پارٹنر کے قریبی اشتراک سے مکمل کیا گیا۔

او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ وائر لائن لاگ نتائج کی بنیاد پر لوئر گوروفارمیشنمیں دو ڈرل اسٹیم ٹیسٹ (ڈی ایس ٹیز) کیے گئے تھے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ مجموعی ٹیسٹ نتائج کے مطابق، 32/64“ چوک کے ذریعے یومیہ 6.4 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) اور 55 بیرل یومیہ کنڈینسیٹ (بی پی ڈی) کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ دریافت لوئر گوروفارمیشن میں بِترسِم ایکسپلوریشن لائسنس کے اندر ایک اہم کامیابی کی علامت ہے، جو لائسنس کی کمرشل اہمیت اور عمر میں توسیع کا باعث بنے گی۔

کمپنی نے کہا کہ یہ دریافت ملکی وسائل کے ذریعے توانائی کی طلب اور رسد کے فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور او جی ڈی سی اور ملک دونوں کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں اضافہ کرے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی او جی ڈی سی ایل نے خیرپور کے علاقے میں واقع شاہو-1 کنویں سے قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے تھے۔