فرانسیسی کمپنی دسالٹ ایوی ایشن اور بھارتی گروپٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ رافیل لڑاکا طیارے کا فیوزلاج (مرکزی ڈھانچہ) بھارت میں تیار کریں گی — یہ پہلا موقع ہوگا جب یہ اہم حصہ فرانس سے باہر تیار کیا جائے گا۔

بھارت، جو دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے، اب دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری بڑھانے اور برآمدات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں بھارت کی دفاعی برآمدات 12 فیصد اضافے کے ساتھ 2.76 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

بیان کے مطابق، ٹاٹا حیدرآباد میں ایک پیداواری سہولت قائم کرے گا، جہاں رافیل طیارے کے کلیدی اسٹرکچرل حصے تیار کیے جائیں گے۔

پہلے فیوزلاج حصے مالی سال 2028 میں اسمبلی لائن سے نکلنے کی توقع ہے اور فیکٹری ہر ماہ دو مکمل فیوزلاج تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔

بیان میں اس معاہدے کی مالی مالیت یا یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ تیار شدہ مصنوعات بھارت میں استعمال ہوں گی یا برآمد کی جائیں گی۔ تاہم ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ رافیل کا فیوزلاج ”بھارت اور دیگر عالمی منڈیوں“ کے لیے تیار کیا جائے گا۔

۔

بھارتی فضائیہ اس وقت 36 رافیل لڑاکا طیارے چلا رہی ہے۔ بھارت نے اپریل میں فرانس — جو اس کا دوسرا بڑا اسلحہ سپلائر ہے — کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ 26 بحری ورژن کے رافیل طیارے خریدے گا جن کی ترسیل 2030 تک متوقع ہے۔

یہ جنوبی ایشیائی ملک اپنی فوج کو جدید بنانے اور ملکی ہتھیاروں کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد اپنے پڑوسیوں پاکستان اور چین کے خلاف دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

بھارت نے گزشتہ ماہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مہلک حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ چار روز تک شدید لڑائی میں لڑاکا طیارے استعمال کیے۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑائی کے دوران بھارت کے تین رافیل لڑاکا طیارے مار گرائے گئے، لیکن اس دعوے کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

رائٹرز کو دیے گئے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق کم از کم ایک بھارتی طیارہ، جو مارا گیا، رافیل تھا۔ دسالٹ ایوی ایشن نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے گزشتہ ہفتے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت کو فضائی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن انہوں نے تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔