ٹرمپ نے سفری پابندی دوبارہ لگادی، 12 ممالک کے شہریوں پر پابندی؛ پاکستان شامل نہیں
- اقدام "غیر ملکی دہشت گردوں" اور دیگر سیکورٹی خطرات سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں 12 ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ”غیر ملکی دہشت گردوں“ اور دیگر سیکورٹی خطرات سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔
یہ ہدایت ٹرمپ کی جانب سے اس سال ان کی دوسری مدت کے آغاز پر شروع کی گئی امیگریشن کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، اس مہم میں وینزویلا کے سیکڑوں مشتبہ گینگ ممبران کو ایل سلواڈور بھیجنا، کچھ غیر ملکی طلبا کے داخلوں کو روکنے اور کچھ کو ملک بدر کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
جن ممالک پر نئی سفری پابندی عائد کی گئی ہے ان میں افغانستان، میانمار، چاڈ، کانگو، استوائی گنی، اریٹریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
مزید سات ممالک کے شہریوں پر جزوی پابندی ہوگی جن میں برونڈی، کیوبا، لاوس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔
ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک وڈیو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست پر نظرثانی بھی ہو سکتی ہے اور نئے ممالک کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہ اعلامیہ 9 جون 2025 کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 12:01 بجے مؤثر ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے جاری ہونے والے ویزے منسوخ نہیں کیے جائیں گے۔
اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے سات مسلم اکثریتی ممالک کے مسافروں پر پابندی کا اعلان کیا تھا جو کئی مراحل سے گزرنے کے بعد 2018 میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھی تھی۔
سابق صدر جو بائیڈن، جو ٹرمپ کے بعد صدر بنے، نے 2021 میں ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی اور اسے ”قومی ضمیر پر ایک داغ“ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جن ممالک پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ”دہشت گردوں کی بڑی موجودگی“ ہے، وہ ویزا سیکورٹی پر تعاون نہیں کرتے، مسافروں کی شناخت کی تصدیق کا مؤثر نظام نہیں رکھتے، مجرمانہ ریکارڈ کا مناسب اندراج نہیں ہوتا اور ان کے شہری امریکہ میں ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایسے کسی بھی ملک سے کھلی امیگریشن کی اجازت نہیں دے سکتے جہاں سے آنے والے افراد کی ہم محفوظ اور قابلِ اعتماد طریقے سے جانچ اور تصدیق نہ کر سکیں۔
انہوں نے اتوار کے روز بولڈر، کولوراڈو میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیا جس میں ایک شخص نے اسرائیل کے حامی مظاہرین کے ہجوم پر پٹرول بم پھینکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی پابندیاں کیوں ضروری ہیں۔
ایک مصری شہری، محمد صبری سلیمان، پر اس حملے میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ سلیمان نے اپنے سیاحتی ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام جاری رکھا اور اس کا ورک پرمٹ بھی ختم ہو چکا تھا — حالانکہ مصر ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں جن پر نئی سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکہ میں موجودگی بڑا خطرہ
صومالیہ نے فوری طور پر امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاملات پر تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکہ میں صومالی سفیر داهیر حسن عبدي نے ایک بیان میں کہا کہ صومالیہ امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اٹھائے گئے خدشات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابییو، جو صدر نکولس مادورو کے قریبی ساتھی ہیں، نے بدھ کی شام امریکی حکومت کو فاشسٹ قرار دیتے ہوئے وینزویلا کے شہریوں کو امریکہ میں موجود ہونے کے خطرے سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ امریکہ میں موجود ہونا کسی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے، صرف وینزویلا کے شہریوں کے لیے نہیں۔۔۔ وہ ہمارے ہم وطنوں، ہمارے لوگوں کو بلا وجہ نشانہ بناتے ہیں۔
طالبان کی زیر قیادت افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی فوری طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ وہ ان ہزاروں افغان باشندوں سے کیسے نمٹے گا جو اسلام آباد میں امریکی آبادکاری کے منتظر ہیں۔
جمعرات کی صبح میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان کو کی گئی کالز کا جواب نہیں دیا گیا۔
سفری پابندی ایک 31 سالہ میانمار کی ٹیچر کے امریکہ جانے کے منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جنہوں نے ستمبر میں شروع ہونے والے امریکی محکمہ خارجہ کے تبادلہ پروگرام میں شامل ہونا تھا۔
وہ خاتون ٹیچر اس وقت تھائی لینڈ میں مقیم ہیں اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کی ویزا درخواست ابھی زیرِ التواء ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ درخواست دینا اور قبول ہونا آسان نہیں تھا کیونکہ ہمیں کئی تعریفی خطوط کی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ میرے معاملے میں، مجھے ان یونیورسٹیوں میں کام کرنا تھا جو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کرتی ہیں، ٹرمپ کے اعلان کے بعد پروگرام کی جانب سے انہیں کوئی تازہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔
ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم سخت بارڈر پالیسی پر مرکوز رہی اور انہوں نے اکتوبر 2023 کی ایک تقریر میں اپنے منصوبے کا خاکہ پیش کیا جس میں انہوں نے غزہ پٹی، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور ”کسی بھی ایسی جگہ سے“ لوگوں کو محدود کرنے کا وعدہ کیا تھا جو امریکہ کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں کسی بھی غیر ملکی کو امریکہ میں داخلے سے قبل سخت سیکورٹی جانچ کی ہدایت دی گئی تاکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی شناخت کی جا سکے۔
تازہ ترین سفری پابندیوں کی خبر سب سے پہلے سی بی ایس نیوز نے دی۔
مارچ میں، رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ درجنوں ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی تھی۔