کاروبار اور معیشت

مہنگی بجلی، سستا سولر: پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ

  • پاکستان میں اسمارٹ بیٹری اسٹوریج اور سولر ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے اپنایا جائے تو ملک کو نئے بجلی گھر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، رپورٹ
شائع June 5, 2025 اپ ڈیٹ June 5, 2025 01:54pm

امریکا کے انسٹیٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (آئی ای ای ایف اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگی بجلی اور سستی ہوتی شمسی توانائی کے سبب بیٹری اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو 2030 تک 8.75 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 2024 میں اندازاً 1.25 جی ڈبلیو ایچ لیتھیم آئن بیٹری پیکس درآمد کیے، جبکہ 2025 کے پہلے دو ماہ میں مزید 400 میگا واٹ آور درآمد ہوئے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو یہ 2030 تک متوقع زیادہ سے زیادہ طلب کا 26 فیصد پورا کر سکتا ہے۔

تاہم آئی ای ای ایف اے نے خبردار کیا کہ یہ تبدیلی ناصرف موجودہ پیداواری اثاثوں کو بیکار کر سکتی ہے بلکہ بجلی کے گرڈ کے لیے مالی نقصانات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی طلب چین سے درآمد شدہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ اگرچہ سولر پینلز کی قیمتیں چین کی طرز پر کم ہو رہی ہیں، مگر بیٹری سسٹمز پر بھاری ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہیں۔ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس کی اوسط قیمت 230 ڈالر کے ایچ ڈبلیو سے 360 ڈالر کے ایچ ڈبلی کے درمیان ہے۔

اس کے باوجود، شمسی توانائی کے ساتھ بیٹری اسٹوریج کا امتزاج صارفین کے لیے پرکشش ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گھریلو صارفین کے لیے سولر پلس بیٹری سسٹم کی سرمایہ واپسی کی مدت 3 سے 5 سال جبکہ کمرشل و صنعتی شعبے میں 4 سے 6 سال ہے، اگرچہ لیتھیم بیٹریوں پر 48 فیصد اضافی چارجز لاگو ہوتے ہیں۔

آئی ای ای ایف اے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چھتوں پر سولر پینلز کی زیادہ تنصیب بیٹری اسٹوریج کی بڑے پیمانے پر تقسیم شدہ اپنائیت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر حکومت مزید مالی و ریگولیٹری معاونت فراہم کرے تو اسے نئے بجلی گھروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تاہم، رپورٹ نے خبردار کیا کہ اگر گرڈ کو جدید نہ بنایا گیا اور مناسب ریگولیٹری اصلاحات نہ کی گئیں تو بیٹری سسٹمز کا غیر منظم پھیلاؤ قومی گرڈ کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے اسمارٹ میٹرنگ، گرڈ اپ گریڈیشن اور بہتر منصوبہ بندی پر بروقت سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔