ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی ترک کرنا سو فیصد ملک کے مفادات کے منافی ہے جبکہ انہوں نے تہران کے جوہری پروگرام پر دہائیوں سے جاری تنازع کے حل کے لیے امریکہ کی بنیادی شرط کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایک نیا جوہری معاہدہ ہفتے کے روز عمان کے ذریعے ایران کو پیش کیا گیا، جو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پانچ ادوار کی بات چیت کے باوجود کئی بنیادی اختلافات برقرار ہیں، جن میں ایران کا اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا اصرار اور اپنی مکمل افزودہ یورینیم کی موجودہ ذخیرہ اندوزی بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار شامل ہے، جو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کا خام مواد بن سکتی ہے۔

خامنہ ای، جنہیں ریاستی امور پر حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے، نے مذاکرات ختم کرنے کی بات نہیں کی، تاہم کہا کہ امریکی پیشکش قوم کے خودانحصاری کے عقیدے اور ’ہم کر سکتے ہیں‘ کے اصول کے منافی ہے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم افزودگی ہمارے جوہری پروگرام کی بنیاد ہے اور دشمن اسی نکتے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

خامنہ ای نے مزید کہا کہ امریکیوں کی جو پیشکش ہے وہ ہمارے مفادات کے سراسر خلاف ہے، امریکہ کے مغرور اور گستاخ رہنما بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں جوہری پروگرام نہیں رکھنا چاہیے۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ ایران افزودگی رکھے یا نہیں؟

تہران کا موقف ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی پر عبور صرف پُرامن مقاصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ طویل عرصے سے مغربی طاقتوں کے اس الزام کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

زیادہ سے زیادہ دباؤ

رائٹرز نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے کہ تہران امریکہ کی پیشکش کو ایک ”ناقابلِ قبول ابتدائیہ“ کے طور پر مسترد کرنے والا ہے، کیونکہ یہ نہ تو یورینیم افزودگی پر واشنگٹن کے سخت موقف میں کوئی نرمی لاتی ہے، اور نہ ہی تہران کے مفادات کا خاطرخواہ خیال رکھتی ہے۔

جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد، صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی ”زیادہ سے زیادہ دباؤ“ کی مہم دوبارہ شروع کر دی ہے، جس میں پابندیوں کو مزید سخت کرنا اور اگر مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہوئے تو ایران پر حملے کی دھمکیاں دینا شامل ہے۔

ٹرمپ کا مقصد تہران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے، کیونکہ یہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتی ہے اور ممکنہ طور پر اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب، ایران کی مذہبی قیادت کا ہدف ان تباہ کن پابندیوں سے نجات حاصل کرنا ہے، جنہوں نے ملک کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران، ٹرمپ نے تہران کا 2015 کا چھ عالمی طاقتوں سے کیا گیا جوہری معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا اور دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں، جن سے ایرانی معیشت شدید متاثر ہوئی۔

جواباً، ایران نے افزودگی کی سطح کو اس معاہدے کی مقرر کردہ حدود سے کہیں آگے بڑھا دیا۔

ایران کی مذہبی حکومت اس وقت کئی داخلی و خارجی بحرانوں سے نبردآزما ہے — توانائی اور پانی کی قلت، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، اسرائیل سے جاری تنازعات میں علاقائی ملیشیا گروہوں کے نقصانات، اور جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات — یہ سب ٹرمپ کے سخت گیر مؤقف سے مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔

ایران کا ازلی حریف اسرائیل، جو تہران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، بارہا اسلامی جمہوریہ کی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں دے چکا ہے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

تہران واضح طور پر خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب انتہائی سخت ہوگا۔