دنیا

چین کی اہم معدنی برآمدات پر پابندی سے عالمی سطح پر خطرات میں اضافہ

  • جرمنی کی موٹر گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی ان اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ چین کی برآمدی پابندیاں ان کی صنعتی پیداوار معطل کرنے اور مقامی معیشتوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

چین کی جانب سے منگل کے روز اہم معدنیات پر کنٹرول کے حوالے سے عالمی تشویش میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب عالمی آٹومیکرز نے امریکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر خبردار کیا کہ نایاب دھاتوں کے مرکبات، آمیزوں اور میگنیٹس کی برآمدات پر چین کی پابندیوں کا اگر فوری طور پر کوئی حل نہ نکالا گیا تو اس سے پیداوار میں تاخیر اور تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔

جرمنی کی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ چین کی برآمدی پابندیاں ان کی پیداواری سرگرمیوں کو معطل کرنے اور مقامی معیشتوں میں خلل ڈالنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انتباہ ایک بھارتی الیکٹرک وہیکل ( برقی گاڑی) تیار کرنے والی کمپنی کی گزشتہ ہفتے کی شکایت کے بعد سامنے آیا ہے۔

چین نے اپریل میں نایاب معدنیات اور میگنیٹس کی ایک وسیع رینج کی برآمدات معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، ایرو اسپیس مینوفیکچررز، سیمی کنڈکٹر ساز اداروں اور عسکری ٹھیکیداروں کی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔

یہ اقدام چین کی نازک معدنیات کی صنعت میں بالادستی کو اجاگر کرتا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق، چین اس فیصلے کو امریکا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ میں بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ امریکا کے تجارتی تعلقات کو ازسرِنو متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر کی چینی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں تاکہ تجارتی خسارے میں کمی اور امریکا میں صنعتی پیداوار کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف بعض درآمدات پر 145 فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کیے تھے تاہم اسٹاک، بانڈ اور کرنسی مارکیٹوں کی سخت ردعمل کے بعد ان میں کمی کرنا پڑی۔ جواباً چین نے بھی جوابی محصولات عائد کیے اور اب وہ عالمی سپلائی چینز میں اپنی اجارہ داری کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں۔

ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان رواں ہفتے بات چیت متوقع ہے اور امکان ہے کہ چین کی برآمدی پابندیاں اس ملاقات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوں گی۔

مقناطیسی دھاتوں (میگنیٹس) کی ترسیل، جو موٹر گاڑیوں اور ڈرونز سے لے کر روبوٹس اور میزائلوں کی تیاری تک میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، اس وقت کئی چینی بندرگاہوں پر روک دی گئی ہے کیونکہ حکومت ایک نیا ریگولیٹری نظام تیار کر رہی ہے۔ اس نظام کے نافذ ہونے کے بعد، بعض کمپنیوں، بشمول امریکی عسکری ٹھیکیداروں، کو مستقل بنیادوں پر رسد سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

یہ معطلی دنیا بھر میں کارپوریٹ بورڈ رومز اور دارالحکومتوں، ٹوکیو سے لے کر واشنگٹن تک، میں تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں حکام متبادل ذرائع کی تلاش میں مصروف ہیں، اس خوف کے تحت کہ اگر صورتحال بدستور برقرار رہی تو موسمِ گرما کے اختتام تک نئی گاڑیوں اور دیگر مصنوعات کی تیاری مکمل طور پر رُک سکتی ہے۔

جرمنی کی آٹو انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم کی سربراہ ہلڈیگارڈ مولر نے منگل کے روز رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ اگر صورتحال کا فوری طور پر کوئی حل نہ نکالا گیا تو پیداوار میں تاخیر اور حتیٰ کہ مکمل تعطل کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فرینک فینن، جو معدنیات کی صنعت سے وابستہ مشیر اور صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں امریکی معاون وزیر خارجہ برائے توانائی وسائل رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ جو لوگ عالمی رسد میں پیدا ہونے والے خلل پر نظر رکھے ہوئے تھے، ان کے لیے یہ صورتحال حیران کن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس صورتِ حال پر کسی کو حیرت ہونی چاہیے۔ ہمارے پاس (امریکا میں) پیداوار کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اور ہمیں حکومت کی تمام سطحوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فوری طور پر وسائل کی فراہمی کو محفوظ بنانا اور مقامی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ یہ سب کل ہونا چاہیے تھا، وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

دوسری جانب، بھارت، جاپان اور یورپ سے تعلق رکھنے والے سفارتکار، آٹومیکرز اور دیگر اعلیٰ عہدیداران چین کے حکام سے ہنگامی ملاقاتوں کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نایاب معدنیات سے بننے والے میگنیٹس کی برآمدات کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جا سکے کیونکہ اس کی کمی عالمی سپلائی چینز کو بند کرنے کے قریب لے آئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق جاپان سے ایک تجارتی وفد جون کے اوائل میں بیجنگ کا دورہ کرے گا تاکہ وزارتِ تجارت سے پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے جبکہ یورپ کے اُن ممالک کے سفارتکار جن کی معیشتیں آٹو انڈسٹری پر انحصار کرتی ہیں، حالیہ ہفتوں میں چینی حکام سے ہنگامی ملاقاتوں کی درخواست کر چکے ہیں۔

بھارت میں بجاج آٹو نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین سے نایاب میگنیٹس کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوئی تو الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی آٹو صنعت کے رہنماؤں کا ایک وفد آئندہ دو سے تین ہفتوں میں چین کا دورہ کرے گا۔

مئی میں جنرل موٹرز، ٹویوٹا، فولکس ویگن، ہنڈائی اور دیگر بڑی آٹومیکرز کی نمائندگی کرنے والے تجارتی اتحاد الائنس فار آٹوموٹیو انوویشن نے بھی امریکی حکومت کو خط لکھ کر اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ان عناصر اور میگنیٹس تک قابلِ بھروسہ رسائی ممکن نہ رہی، تو گاڑیوں کے پرزے بنانے والے سپلائرز خودکار گیئر سسٹم، تھروٹل باڈی، آلٹرنیٹر، مختلف موٹرز، سینسرز، سیٹ بیلٹس، اسپیکرز، لائٹس، اسٹیئرنگ سسٹم اور کیمروں جیسے اہم اجزا تیار کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔