سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) نے مالی سال 26-2025 کے لیے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ 4.083 ٹریلین روپے اور 4.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کو منظوری کے لیے تجویز کر دیا ہے۔
یہ اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی حکام، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تجویز کردہ قومی ترقیاتی بجٹ میں 1,000 ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی، 288 ارب روپے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی سرمایہ کاری اور 2.795 ٹریلین روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام شامل ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب 2024 کے آغاز میں اقتدار سنبھالا تو مالیاتی تنگی، بیرونی ادائیگیوں اور ڈھانچہ جاتی عدم توازن جیسے چیلنجز ورثے میں ملے۔ تاہم ”اُڑان پاکستان“ کے تحت ترقیاتی وژن ترتیب دیا گیا ہے، جس کا ہدف 2035 تک پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے وسائل کی اسٹرٹیجک تقسیم اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ 25-2024 کے لیے پی ایس ڈی پی میں 1,071 منصوبے شامل کیے گئے جن کی مجموعی لاگت 13,427 ارب روپے ہے، جبکہ اب تک 3,216 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ تاہم 10,216 ارب روپے کی باقی ادائیگیاں ”تھرو فارورڈ لائیبلٹی“ کی صورت میں باقی ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ محدود بجٹ کے باعث 118 سست رفتار یا غیر ضروری منصوبوں کو بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے 1,000 ارب روپے بچائے جا سکیں گے۔ مزید برآں، تیزی سے مکمل ہونے والے منصوبوں کے لیے 84 ارب روپے دوبارہ مختص کیے گئے جبکہ قومی ترجیحات کے تحت 80 ارب روپے ٹی ایس جی کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آئندہ مالی سال 26-2025 کے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد 1,000 ارب روپے کی بجٹ حد مقرر کی ہے، جس میں 270 ارب روپے غیر ملکی امداد شامل ہے۔ کل 1,120 منصوبے مجوزہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں، جن میں سے کئی منصوبے اگلے 3 سے 4 سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پانی کے بحران کے پیش نظر دیامر بھاشا ڈیم کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ سکھر-حیدرآباد موٹر وے بھی 26-2025 میں شروع کی جائے گی۔ بلوچستان کو 250 ارب روپے کے قریب سب سے زیادہ فنڈز دیے جائیں گے۔
شعبہ جاتی تقسیم کے مطابق 644 ارب روپے انفراسٹرکچر کے لیے، جن میں 332 ارب روپے ٹرانسپورٹ اور 144 ارب توانائی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ سماجی شعبے کے لیے 150 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جن میں 63 ارب روپے تعلیم اور 22 ارب صحت کے لیے مختص ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 63 ارب، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سائنس و آئی ٹی کو 53 ارب اور گورننس کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ 7 مئی 2025 کو مشرقی سرحد پر کشیدگی کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس نے ترقیاتی بجٹ پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ تاہم حکومت قومی دفاع اور ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے واضح کیا کہ ملکی ترقی کے لیے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ناگزیر ہے اور ٹیکس تا جی ڈی پی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 16 سے 18 فیصد تک لانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ڈی ڈی ڈبلیو پی سطح کے منصوبوں کی منظوری پر آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پابندی ہو گی، سوائے چند ناگزیر صورتوں میں سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری سے ایسا کیا جاسکے گا۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہم صرف بجٹ نہیں بنا رہے، ہم قوم کا مستقبل تشکیل دے رہے ہیں۔ اُڑان پاکستان صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ قومی امنگوں کی ترجمانی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025