دبئی کی رہائشی پراپرٹی کی قیمتوں میں سال کے دوسرے نصف اور سال 2026 میں معمولی کمی آئے گی جو تقریباً 15 فیصد تک بھی گرسکتی ہے۔
فِچ ریٹنگز کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ قیمتیں 15 فیصد سے زیادہ گِرنے کا امکان نہیں کیوں کہ متحدہ عرب امارات کے بینک اور ہوم بلڈرز کم قیمتوں کو سہہ سکتے ہیں جو انہیں کریڈٹ ریٹنگ میں کمی سے محفوظ رکھے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 سے 2025 کی پہلی سہ ماہی تک رہائشی یونٹس کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا، جو وبا کے بعد امیگریشن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کی مضبوط معاشی ماحول میں سرمایہ کاروں کے لیے بڑھتی ہوئی کشش کا نتیجہ تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2023 اور 2024 میں ریکارڈ تعداد میں نئے پراپرٹی منصوبے شروع ہوئے ہیں، جن سے تقریباً 250,000 رہائشی یونٹس مارکیٹ میں متعارف کروائے جانے کی توقع ہے۔
2026 میں رہائشی یونٹس کی فراہمی میں تیز رفتار اضافہ متوقع ہے، جب تقریباً 120,000 یونٹس ہینڈ اوور کیے جائیں گے، جو 2024 کے 30,000 اور 2025 کے 90,000 یونٹس سے کہیں زیادہ ہے۔
فِچ کے مطابق نئی یونٹس کی فراہمی میں زبردست اضافہ ہوگا، جس سے 2025 سے 2027 کے دوران اوسطاً 16 فیصد بڑھوتری متوقع ہے، جو متوقع پانچ فیصد آبادی کے اضافے سے کئی گنا زیادہ ہے۔
دوسرے نصف 2024 اور اوائل 2025 میں رہائشی کرایہ کی اوسط منافع میں 30 بنیاد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی، لیکن یہ کمی کے باوجود منافع کی شرح صحت مند 7.4 فیصد کی سطح پر برقرار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ فراہمی میں اضافے سے کرائے کی منافع بخش شرح پر مزید دباؤ پڑے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اہم اور مرکزی علاقوں کی جائیدادیں ممکنہ قیمتوں کی کمی کے باوجود زیادہ مستحکم رہیں گی، کیونکہ یہاں کے سرمایہ کار طویل مدتی ہوتے ہیں اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی دبئی میں پراپرٹی خریدنے والوں کی صفِ اول میں شامل ہیں۔