بھارتی افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ بھارت نے مئی کے آغاز میں پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے پہلے دن فضائی نقصانات کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور تین دن بعد جب دونوں ہمسایوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو بھارت نے فیصلہ کن برتری حاصل کرلی تھی۔
واضح رہے کہ پاک بھارت کے درمیان جھڑپوں کا آغاز 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد ہوا۔ یاد رہے کہ پہلگام حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ نئی دہلی نے اس واقعے کا الزام پاکستان پرعائد کیا تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کردیا۔
7 مئی کو بھارتی جنگی طیاروں نے سرحد پار اُن مقامات پر بمباری کی جنہیں نئی دہلی نے دہشت گردوں کے ٹھکانے قرار دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ابتدائی جھڑپوں میں اس نے بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے جن میں کم از کم 3 رافیل طیارے شامل تھے۔
10 مئی کو دونوں جانب سے شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
جنرل انیل چوہان نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ بھارت کو فضائی محاذ پر ابتدائی نقصانات اٹھانے پڑے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم کے موقع پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے جنرل انیل چوہان نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ یہ نقصانات کیوں ہوئے اور ہم اس کے بعد کیا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی حکمت عملی درست کی اور پھر 7، 8 اور 10 مئی کو بڑی تعداد میں واپس گئے، پاکستان کے اندر ایئر بیسز کو نشانہ بنایا، اُن کے فضائی دفاعی نظام کو بے خوفی سے چیرتے ہوئے انتہائی درست حملے کیے۔
انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو بھارتی فضائیہ نے ہر نوعیت کے جنگی طیاروں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں کے ساتھ بھرپور فضائی کارروائیاں کیں۔
واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی دعویٰ کرچکا ہے کہ اُس نے 10 مئی کو ملک بھر میں کم از کم 8 پاکستانی ایئر بیسز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جن میں ایک ایئر بیس دارالحکومت اسلام آباد کے قریب تھا۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ 7 مئی کو نقصانات کے بعد بھارت نے دوبارہ اپنے لڑاکا طیارے استعمال نہیں کیے۔
بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ایئر آپریشنز، ایئر مارشل اے کے بھرتی نے مئی کے آغاز میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں اور بھارت نے کچھ پاکستانی طیارے بھی مار گرائے ہیں۔
ادھر اسلام آباد نے کسی بھی طیارے کے نقصان سے انکار کیا ہے تاہم اس نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے ائر بیس کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔
جوہری خدشات نہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ حملے پاکستان کے جوہری تنصیبات کے قریب ائر بیسز پر کیے گئے لیکن جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
جنرل انیل چوہان نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے۔
جنرل چوہان اور پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا دونوں نے کہا ہے کہ اس تنازع کے دوران کسی بھی وقت جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ نہیں تھا۔
چوہان نے کہا کہ میرے خیال میں جوہری حد کو عبور کرنے سے پہلے بہت جگہ ہوتی ہے اور اس سے پہلے کافی اشارے دیے جاتے ہیں، لیکن میرے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔