رواں ماہ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران میں ایرانی اعلیٰ حکام کو ایک سخت پیغام دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایٹمی معاہدے کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ سے بچنے کا یہی ایک موقع ہو سکتا ہے۔
گلف ذرائع کے مطابق، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے بیٹے کو 17 اپریل کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک یہ خفیہ پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا۔ اس ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک تھے۔
شہزادہ خالد نے متنبہ کیا کہ ٹرمپ کی ٹیم جلد معاہدہ چاہتی ہے اور مذاکرات کے دروازے محدود وقت کے لیے کھلے ہیں۔ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو اسرائیلی حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
ایرانی حکام نے جواب میں بتایا کہ وہ پابندیاں ہٹوانے کے لیے ڈیل چاہتے ہیں، لیکن ٹرمپ کے غیر یقینی رویے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
شہزادہ خالد نے خطے میں حالیہ جنگوں، خاص طور پر غزہ اور لبنان میں کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید تنازع کے نقصانات سے خبردار کیا۔ انہوں نے 2019 میں سعودی آرامکو پر ہونے والے ڈرون حملے کا بھی ذکر کیا۔
شہزادہ خالد نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ سعودی عرب اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو امریکا یا اسرائیل کے کسی ممکنہ حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
یہ دورہ سعودی شاہی خاندان کے کسی اعلیٰ رکن کا دو دہائیوں بعد پہلا دورہ ایران تھا، جو 2023 میں چین کی ثالثی میں ہونے والے ایران-سعودی تعلقات کی بحالی کے بعد ممکن ہوا۔