دنیا

عالمی معشیت میں سست روی، رواں برس سات ملین ملازمتیں کم پیدا ہونگی، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی او ایل) نے 2025 کے لیے عالمی روزگار سے متعلق اپنی پیشگوئی کم کر دی ہے۔ اب توقع کی جا...
شائع اپ ڈیٹ

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی او ایل) نے 2025 کے لیے عالمی روزگار سے متعلق اپنی پیشگوئی کم کر دی ہے۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال 60 ملین کے بجائے صرف 53 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

یہ کمی عالمی روزگار کی شرحِ نمو کو 1.7 فیصد سے گھٹا کر 1.5 فیصد تک لے آتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اس ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ سات ملین ملازمتوں کی کمی دراصل عالمی معاشی منظرنامے میں گراوٹ کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو اب 2.8 فیصد متوقع ہے، جو پہلے 3.2 فیصد تصور کی جا رہی تھی۔

آئی او ایل کے ڈائریکٹر جنرل، گلبرٹ ایف ہونگبو نے کہا کہہم جانتے ہیں کہ عالمی معیشت اس رفتار سے ترقی نہیں کر رہی جس کی توقع تھی۔ ہماری رپورٹ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور تجارتی رکاوٹیں برقرار رہیں، اور اگر ہم ان بنیادی سوالات کو حل نہ کر سکے جو آج کی دنیا میں کام کی نوعیت کو بدل رہے ہیں، تو اس کے عالمی مزدور منڈی پر منفی اثرات ضرور پڑیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، تقریباً 84 ملین ملازمتیں — جو 71 ممالک میں ہیں — براہ راست یا بالواسطہ طور پر امریکی صارفین کی طلب سے جڑی ہوئی ہیں، اور اب بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کی وجہ سے ان کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ان میں سے سب سے زیادہ، یعنی 56 ملین ملازمتیں، ایشیا پیسیفک کے خطے میں واقع ہیں۔

رپورٹ میں آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے بھی تشویشناک رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مزدوروں کو ملنے والی آمدنی کا حصہ، جو کہ جی ڈی پی کا وہ تناسب ہوتا ہے جو مزدوروں کو اجرت کی صورت میں ملتا ہے، 2014 میں 53 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر 52.4 فیصد رہ گیا ہے۔

افریقہ اور امریکا کے خطوں میں اس میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہاگر یہ تناسب برقرار رہتا تو 2024 میں مزدوروں کی مجموعی عالمی آمدنی ایک کھرب امریکی ڈالر زیادہ ہوتی — یا ہر مزدور کو حقیقی قوتِ خرید کے اعتبار سے تقریباً 290 ڈالر اضافی حاصل ہوتے۔

آئی او ایل کے مطابق مزدوروں کی مجموعی آمدنی میں اس کمی نے عالمی سطح پر عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی ترقی اور مزدوروں کی تنخواہوں کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں ایک اور اہم رجحان کی جانب اشارہ کیا گیا ہے: روزگار کی منتقلی اعلیٰ مہارت والے شعبوں کی طرف ہو رہی ہے — اور خواتین اس رجحان کی قیادت کر رہی ہیں۔

2013 سے 2023 کے درمیان، اعلیٰ مہارت کے شعبوں میں خواتین کی ملازمت کا تناسب 21.2 فیصد سے بڑھ کر 23.2 فیصد ہو گیا، جبکہ 2023 میں مردوں کا تناسب 18 فیصد کے قریب تھا۔

رپورٹ کے مطابق، تقریباً ہر چار میں سے ایک کارکن کی ملازمت جنیریٹیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے باعث تبدیل ہو سکتی ہے۔

درمیانی مہارت کے شعبوں کی ملازمتوں پر اے آئی کے اثرات زیادہ متوقع ہیں، جبکہ اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں ایسی ملازمتوں کا تناسب زیادہ ہے جن کے موجودہ فرائض اے آئی سے خودکار بنائے جا سکتے ہیں۔