وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت مقامی طور پر پیدا ہونے والی کپاس، بشمول لنٹ اور بنولا، پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو سہولت دی جا سکے اور ملکی کپاس کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بات پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد کر رہے تھے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر میں زیر التوا ”کاٹن سیس“ واجبات کو بھی حل کر رہی ہے تاکہ سنٹرل کاٹن کمیٹی (سی سی سی) کو مالی طور پر مستحکم رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت یارن اور فیبرک کی ڈیوٹی فری درآمدات کو محدود کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ مقامی کپاس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف رواں سال 1 کروڑ گانٹھیں پیدا کرنا ہے اور آئندہ بجٹ میں کسانوں کو بھرپور ریلیف دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ اور زرعی شعبے کو ہدفی ریلیف دینے سے متعلق تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
پی بی ایف کے وفد میں سینئر نائب صدر آمنہ اعوان، چیئرمین جنوبی پنجاب طلعت سہیل، چیئرمین خیبر پختونخوا اشفاق پراچہ اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل ظفر اقبال شامل تھے۔
چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی کپاس پر جی ایس ٹی ختم کیا جائے اور کاٹن جننگ سیکٹر کے لیے درآمدی مشینری پر کسٹمز ڈیوٹی کم کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ زرعی شعبے کی بھرپور معاونت کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔
چوہدری احمد جواد نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کی جانب سے تیار کردہ بیجوں کی نئی اقسام کو ضلعی سطح پر نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کسانوں کو اسلام آباد میں ہونے والی تازہ ترین زرعی تحقیق کا علم نہیں، اس تحقیق کو مقامی زراعت کے محکموں کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو کاشت کی لاگت میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے اور کھاد کی قیمتوں میں کمی کے لیے ٹیکس میں رعایت دی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025