عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں حکومتِ پاکستان کو سفارش کی ہے کہ ملک میں محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے اور عوامی اخراجات میں مؤثریت لانے پر توجہ دی جائے تاکہ مالیاتی گنجائش میں اضافہ ہو سکے، جسے سماجی شعبوں پر خرچ کیا جائے اور کمزور طبقوں کو براہ راست نقد امداد دی جا سکے، تاکہ مالیاتی مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔

رپورٹ بعنوان ”پاکستان میں ٹیکسوں اور امداد کا عدم مساوات اور غربت پر اثر“ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو حالیہ برسوں میں شدید مالیاتی چیلنجز، قدرتی آفات اور کووڈ-19 جیسے معاشی جھٹکوں کا سامنا رہا ہے، جن کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقات اور غریب افراد کی آمدنی، اخراجات اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں مزید فرق پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مالی سال 2019 کے لیے فزیکل انسیڈنس انیلیسس پر مبنی یہ پہلی جامع تحقیق ہے جو ٹیکس، سماجی اخراجات اور سبسڈی کے ملا جلا اثرات کا جائزہ لیتی ہے کہ یہ سب کس طرح گھریلو فلاح و بہبود کو متاثر کرتے ہیں۔

اگرچہ 2001 سے 2018 کے دوران پاکستان نے تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا اور غربت کی شرح آدھی کر دی، لیکن دیہی علاقوں میں غربت شہری علاقوں کے مقابلے میں دگنی رہی۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں سب سے اوپر کے 10 فیصد افراد سب سے نچلے 10 فیصد سے اوسطاً تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ان کی آمدنی پانچ گنا زیادہ ہے، اور یہ فرق وقت کے ساتھ کم نہیں ہوا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس، سبسڈی اور سماجی امداد کے نظام کا مشترکہ اثر غربت میں اضافہ اور عدم مساوات میں معمولی کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ مالی سال 2019 میں گنی انڈیکس (جو آمدنی میں عدم مساوات کو ماپتا ہے) ٹیکس سے پہلے 29 تھا جو ٹیکس کے بعد معمولی کم ہو کر 28.6 ہوا، مگر قومی سطح پر غربت کی شرح 23.3 فیصد سے بڑھ کر 25.5 فیصد ہو گئی۔

زیادہ تر غریب اور کمزور گھرانے اس نظام میں ”نیٹ پیئرز“ (یعنی وہ ٹیکس زیادہ ادا کرتے ہیں اور فوائد کم حاصل کرتے ہیں) بن کر رہ گئے ہیں۔ صرف سب سے نچلے 10 فیصد افراد ایسے ہیں جو نظام سے نیٹ فائدہ حاصل کرتے ہیں، جس کا اندازہ ان کی آمدنی کا 1.2 فیصد ہے۔ باقی تمام آمدنی کے درجے والے گروہ مجموعی طور پر زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور کم فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے غربت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سبسڈی اور ان-کائنڈ فوائد کا بڑا حصہ امیر گھرانوں کو ملتا ہے۔ مالی سال 2019 میں دو امیر ترین طبقوں نے مجموعی سبسڈی کا 34 فیصد، تعلیم کے فوائد کا 29 فیصد اور صحت کے فوائد کا 27 فیصد حاصل کیا، جبکہ یہی دو گروہ بالواسطہ ٹیکس کا 40 فیصد اور براہ راست ٹیکس کا تقریباً 90 فیصد ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب، دو غریب ترین طبقے کل براہ راست امداد کا 53 فیصد وصول کرتے ہیں۔

جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو سب سے زیادہ غربت بڑھانے والا عنصر قرار دیا گیا ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو عدم مساوات میں کمی لانے کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جی ایس ٹی چونکہ اخراجات کے متناسب وصول کیا جاتا ہے، اس لیے یہ غریب گھرانوں پر بھاری پڑتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا اوسطاً 7 فیصد جی ایس ٹی کی نذر ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جی ایس ٹی کی ہم آہنگی سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کو کمزور اور غریب طبقوں میں نقد امداد کے ذریعے تقسیم کیا جائے تاکہ مالیاتی مساوات اور استحکام دونوں حاصل کیے جا سکیں۔ اسی طرح، توانائی شعبے میں عمومی اور غیر مؤثر سبسڈی ختم کر کے ان کی جگہ اہدافی سماجی امداد دی جائے تو مالیاتی نظام کو زیادہ مؤثر اور منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔

عالمی بینک نے یہ بھی سفارش کی کہ صحت اور تعلیم کی عوامی سہولیات میں بہتری لانا انتہائی ضروری ہے تاکہ غربت اور عدم مساوات کا دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق، پاکستان اپنے ہم پلہ درمیانے آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ غربت بڑھانے والا اور سب سے کم عدم مساوات کم کرنے والا ملک ہے، جو کہ مالیاتی حکمت عملیوں کے ازسرنو جائزے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025