سعودی عرب کے ایک سرکاری عہدے دار نے پیر کو ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام کے مرکز سعودی عرب اپنی 73 سالہ شراب پر پابندی ختم کرنے جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ شراب مسلمانوں کے لیے شرعی طور پر ممنوع ہے۔
ایک ہفتہ قبل ایک وائن بلاگ پر شائع رپورٹ کو کچھ بین الاقوامی میڈیا نے اٹھایا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکام 2034 میں منعقد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاریوں کے سلسلے میں شراب کی محدود فروخت کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم اس رپورٹ میں کسی معتبر ذریعہ کا ذکر نہیں تھا۔
یہ خبریں سعودی عرب میں آن لائن شدید بحث کا موضوع بن گئیں، جہاں ملک کا بادشاہ، جو خود خادمِ حرمین شریفین کا خطاب رکھتا ہے، اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ کا نگہبان بھی ہے۔
سعودی عرب کے حقیقی حکمران، ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) متعدد اصلاحات لا رہے ہیں تاکہ ملک کو سیاحت اور کاروبار کے لیے کھولا جا سکے اور معیشت کے بغیر تیل والے شعبوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
سعودی حکومت نے 2017 میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، بعض عوامی مقامات پر صنفی علیحدگی کے قوانین میں نرمی کی اور مذہبی پولیس کے اختیارات کو کم کیا ہے۔
سعودی عرب میں شراب نوشی کے حوالے سے معمولی نرمی، ریاض میں پہلی بار غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے مخصوص شراب کی دکان کھولی گئی
گزشتہ سال سعودی عرب کی دارالحکومت ریاض میں پہلی بار شراب کی ایک دکان کھولی گئی، جو صرف غیر مسلم سفارتکاروں کو خدمات فراہم کرتی ہے، جو مملکت میں شراب نوشی کے حوالے سے ایک معمولی مگر اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل شراب صرف سفارتی خطوط کے ذریعے یا بلیک مارکیٹ میں دستیاب تھی۔
سعودی عرب میں شراب نوشی کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں، جن کی خلاف ورزی پر ملک بدر کیے جانے، جرمانے یا قید کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں جسمانی سزائیں بھی دی جاتی تھیں لیکن اب زیادہ تر کیسز میں قید کی سزا دی جاتی ہے۔