جیولین تھرو کے نامور پاکستانی ایتھلیٹ اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن (اے ایف ایف) کی جانب سے 2024 کے لیے ایشیا کے بہترین ایتھلیٹ کے اعزاز سے نوازا گیا ہے جو ملک کے لیے ایک قابل فخر اور تاریخی کامیابی ہے۔
ارشد ندیم کیلئے اس اعزاز کا اعلان جنوبی کوریا میں منعقدہ اے ایف ایف کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا گیا جہاں ارشد کو بین الاقوامی سطح پر ان کی غیر معمولی کارکردگی خاص طور پر پیرس اولمپکس میں ان کے ریکارڈ توڑ کارناموں کے لیے خصوصی پہچان ملی۔
ارشد کا سب سے یادگار لمحہ پیرس اولمپکس کے جیوولن تھرو کے فائنل راؤنڈ میں 92.97 میٹر کا ریکارڈ ساز تھرو تھا، جو اولمپکس کی تاریخ میں سب سے طویل تھرو ہے۔ اس تھرو کی بدولت انہوں نے نہ صرف گولڈ میڈل اپنے نام کیا بلکہ پاکستان کو 40 سال بعد پہلا اولمپک گولڈ میڈل بھی دلوایا۔
ارشد ندیم کا عروج کا سفر آسان نہیں تھا۔ انہوں نے اولمپک کے فائنل راؤنڈ کا آغاز ایک فاؤل تھرو سے کیا، لیکن تیسرے راؤنڈ میں 88.72 میٹر کی زبردست تھرو کے ساتھ واپس آئے جس سے انہوں نے چیک ریپبلک کے جیکب واڈلائج کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ارشد نے بعد کے راؤنڈز میں 79.40 میٹر اور 84.87 میٹر کی تھرو بھی کیں۔ لیکن ان کی آخری تھرو، جو 91.79 میٹر تھی اور اولمپک تاریخ کی دوسری سب سے لمبی تھرو ہے، نے ان کی برتری کو یقینی بنایا اور دنیا کو حیران کر دیا۔
ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کا یہ اعزاز ارشد ندیم کی عالمی ایتھلیٹکس میں بڑھتی ہوئی شہرت کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستان کی بین الاقوامی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کامیابی پر پاکستان میں وسیع پیمانے پر جشن منایا جا رہا ہے، جہاں مداح، حکام اور دیگر کھلاڑی قومی وقار بڑھانے پر ارشد ندیم کی کارکردگی کا اعتراف کررہے ہیں اور انہیں مبارکباد پیش کررہے ہیں۔
اعزاز وصول کرنے کے بعد ارشد ندیم نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی پاکستان کے نوجوان ایتھلیٹس کے لیے مثال بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان یقین کریں کہ محنت اور لگن سے کچھ بھی ناممکن نہیں۔
یہ اعزاز ارشد کے لیے ایک شاندار سال میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوا ہے اوراس نے ایشیائی اور عالمی سطح پر پاکستانی ایتھلیٹکس کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔